Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

کیا گائے کا گوشت ذیابیطس اور ہائی بلڈ شوگر کا خطرہ بڑھاتا ہے؟

Does beef increase the risk of diabetes and high blood sugar?
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

اب تک کی سائینسی تحقیق یہی بتاتی رہی ہے کہ گائے کا گوشت یعنی ریڈ میٹ انسانی صحت بلخصوص شوگر اور بلڈ پریشر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ ہے، مگر ایک نئی تحقیق نے اس بات کو رد کرتے ہوئے یہ دریافت کیا ہے کہ گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے بلڈ شوگر یا ذیابیطس کا خطرہ نہیں بڑھتا۔

جی ہاں شوگر اور ذیابطیس ٹائپ ٹو کے مریضوں کے لئے اچھی خبر ہے کہ اب وہ اطمینان کے ساتھ عید قربان پر گائے کے گوشت اور مزیدار پکوان سے بے خوف ہو کر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ جیو نیوز میں شائع ہونے والی امریکا کے انڈیانا یونیورسٹی اسکول آف پبلک کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق گائے کے گوشت سے بلڈ شوگر کی سطح، انسولین کے افعال، ورم یا ہائی بلڈ شوگر کے شکار افراد کی صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔

جرنل کرنٹ ڈویلپمنٹ ان نیوٹریشن میں شائع ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماہرین موٹاپے اور ہائی بلڈ شوگر کا شکار افراد کے ایک کلینیکل ٹرائل کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گائے کے گوشت کے روزانہ استعمال سے انسولین کی حساسیت یا بلڈ شوگر کی سطح پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

محققین کے مطابق گائے کے گوشت اور مرغی کے گوشت سے ہائی بلڈ شوگر کے مریضوں پر مرتب ہونے والے اثرات تقریبا ایک جیسے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہو تا ہے کہ گائے کے گوشت کے استعمال سے میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے یا ورم کا خطرہ بڑھانے والے عناصر کا سامنا نہیں ہوتا۔

ذیابیطس ٹائپ 2 ایسی بیماری ہے جس کے دوران لبلبہ مناسب مقدار میں انسولین نہیں بناتا یا انسولین کو درست طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا، اس کے نتیجے میں بلڈ شوگر کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوتا ہے، اگر بلڈ شوگر کی سطح کو کنٹرول نہ کیا جائے تو امراض قلب، بینائی سے محرومی، اعصاب اور اعضا کو نقصان پہنچنے سمیت دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔

تاہم ماہرین نے یہ بھی تسلیم کیا کہ تحقیق کے نتائج کسی حد تک محدود ہیں کیونکہ تحقیق کا دورانیہ زیادہ طویل نہیں تھا مگر اس عرصے میں بھی غذا سے میٹابولک اثرات مرتب ہو جاتے ہیں، اس لئے قربانی کے لذیز گوشت سے لطف اندوز ضرور ہوں مگر احتیاط اور اعتدال کے ساتھ ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ماہرین کا اختلاف آپ کے گلےپڑ جائے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement