Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

ہنٹا وائرس کیا ہے اور یہ کتنا خطرناک ہے؟

What is hantavirus and what animal does it spread from?
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔
ہنٹا وائرس کیا ہے اور یہ کس جانور سے پھیلتا ہے ؟
یہ وائرس کتنا خطرناک ہے اور کن اعضا پر حملہ آور ہو تا ہے ؟
اسکی علامات کیا ہیں اور بچاو کیسے ممکن ہے ؟

عالمی ادارہ صحت نے تصدیق کی ہے کہ بحر اوقیانوس میں موجود ایک لگژری کروز شپ میں تین افراد ہنٹا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے۔

ادارے کے مطابق ہنٹا وائرس چوہوں سے پھیلنے والا وائرس ہے جو چوہوں کے پیشاب، فضلےاور تھوک سے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں، عام طور چوہوں کی غلاضت کی صفائی کے دوران اڑنے والی دھول کے ساتھ یہ وائرس سانس کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو جاتے ہیں، اس کے علاوہ چوہے کے کاٹنے یا آلودہ سطح کو چھونے سے بھی یہ جراثیم منتقل ہو سکتے ہیں، تاہم ایک انسان سے دوسرے انسان میں اس کا پھیلاؤ انتہائی نایاب ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وائرس پھیپھڑے اور گردوں کو نشانہ بناتا ہے امریکا اور کینیڈا جیسے ملکوں میں ہنٹا وائرس پھیپھڑوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوتا ہے جس میں شرح اموات تقریباً 40 فیصد تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ ایشیا اور یورپ میں یہ گردوں کی خرابی اور خون بہنے والے بخار کا باعث بنتا ہے جس میں شرح اموات ایک سے پندرہ فیصد تک ہوتی ہے۔

ان بیماریوں کی علامات عام طور ایک سے آٹھ ہفتوں کے دوران ظاہر ہوتی ہے ابتدائی مرحلے میں مریض کو اچانک تیز بخار، کپکپاہٹ، سر درد اور کمر و کولہوں کے پٹھوں میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔ اگر پھیپھڑوں والی قسم ہو تو چار سے دس دن کے اندر مریض کو خشک کھانسی اور سانس لینے میں شدید دشواری ہونے لگتی ہے کیونکہ پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے، جس سے سانس یا دل کی حرکت بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ دوسری صورت میں مریض کا بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے، جسم کے اندرونی حصوں سے خون بہہ سکتا ہے اور گردے اچانک کام کرنا چھوڑ سکتے ہیں۔

فی الحال اس وائرس کا کوئی خاص علاج یا ویکسین موجود نہیں ہے اس لئے ماہرین اس سے بچاو کے لئے چوہوں اور اسکے فضلے سے دوری اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہیں ۔ ایسے مقامات کی صفائی کر تے ہوئے جگہ کو گیلا کر لیں ، دستانے اور ماسک کا استعمال کریں۔

بی بی سی نیوز کی رپورٹ کے مطابق نیشنل انسٹیٹیوٹ کی ایک رپورٹ میں بتایا گی ہے کہ ہر سال دنیا میں وائرس سے متاثرہ ایک لاکھ پچاس ہزار کیسز رپورٹ ہوتے ہیں جن میں سے نصف کیسز چین میں سامنے آتے ہیں۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement