کبھی اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ آپ کتنا عرصہ جیئیں گے؟ ہے تو یہ ایک عجیب سا سوال مگر بھارتی حیدرآباد کے ایک نیورو لوجسٹ نے دعوی کیا ہے کہ جسم کی ایک سادہ پیمائش یعنی پنڈلی کا سائز زندگی کی مدت کا اشارہ دے سکتا ہے۔
عام طور پر باڈی ماس انڈیکس سے آپکی آئیڈیل ساخت، صحت اور اسی کی بنیاد پر زندگی کے طویل یا مختصر ہونے سے متعلق اندازہ لگایا جاتا ہے تاہم طبی ماہرین ایک نئے اور سادہ پیمانے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، اور وہ یہ کہ انسان کی پنڈلیوں کا گھیراؤ یہ بتا سکتا ہے کہ زندگی کتنی طویل ہو سکتی ہے اور بڑھاپے میں صحت کی حالت کیسی رہے گی۔
بھارتی حیدرآباد کے اپولو اسپتال سے وابستہ نیورولوجسٹ ڈاکٹر سدھیر کمار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنی ایک تفصیلی پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں کمی دراصل جسم میں پٹھوں کی کمزوری کی علامت ہو سکتی ہے جسے طبی زبان میں سارکوپینیا کہا جاتا ہے۔ یہ کیفیت جسمانی کمزوری، بیماری کے دوران پیچیدگیوں اور بڑھاپے میں زیادہ کمزوری کا سبب بن سکتی ہے۔
ڈاکٹر سدھیر کمار کے مطابق پنڈلی کے کم سائز اور زیادہ شرح اموات کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔ بعض بڑے سائنسی تجزیوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جن افراد کی پنڈلی چھوٹی ہوتی ہے ان میں خطرہ دو گنا سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ پنڈلی کے گھیراؤ میں ہر ایک سینٹی میٹر اضافے کے ساتھ موت کے خطرے میں تقریباً پانچ فیصد کمی واقع ہوتی ہے۔
ڈاکٹر سدھیر کا کہنا ہے کہ اگر مردوں میں پنڈلی کا گھیراؤ 34 سینٹی میٹر اور خواتین میں 33 سینٹی میٹر سے کم ہو تو یہ کمزوری اور صحت کے لئے خطرات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ ایسے افراد میں گرنے، فریکچر اور دیگر پیچیدگیوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔ماہرِ اعصاب کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کے پٹھے قدرتی طور پر کم ہونے لگتے ہیں، لیکن اس عمل کو سست یا روکا جا سکتا ہے۔
تاہم ان دعووں کی کوئی توثیق یا تحقیق موجود نہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ صرف پنڈلی کا سائز عمر کا تعین کیسے کر سکتا ہے ، یہ بات سائنسی طور پر ثابت نہیں۔