پوری دنیا کلائمیٹ چینج کے اثرات کی زد میں ہے اور پاکستان سب سے ذیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب شدید گرمی ، خشک موسم اور ہیٹ اسٹروک معمول بن گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق گرمی کی شدت محض جسم کو نڈھال نہیں کرتی بلکہ یہ ذہنی اور جسمانی کارکردگی کو بھی بری طرح متاثر کر رہی ہے، گرمی کی انتہا نے انسانی صحت کے لیے نئے خطرات پیدا کر دیے ہیں، شدید گرمی دماغ، دل، ہارمونز اور ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں، پانی کی کمی سے خون کی گردش کم ہو جاتی ہے جس سے سر درد، چکر آنا اور تھکاوٹ جیسی شکایات پیدا ہوتی ہیں، شدید گرمی جسم میں اسٹریس ہارمونز کو بڑھا دیتی ہے جس سے چڑچڑاپن اور تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔
ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ پیاس نہ لگنے کی صورت میں بھی باقاعدگی سے پانی پئیں اور زیادہ پسینہ آنے کی صورت میں نمکیات کا استعمال کریں، صحت مند غذا اور باقاعدہ ورزش دل کو مضبوط رکھنے میں مدد دیتی ہے، جس سے نہ صرف ذیابیطس اور بلڈ پریشر بلکہ دل کے مسائل کا خطرہ بھی کم ہو جاتا ہے۔ تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز اور ذہنی تناؤ کو کم کرنے کی بھی کوشش کریں ۔ دوپہر کی شدید گرمی میں باہر نکلنے سے گریز کریں اپنے کام ٹھنڈے اوقات میں مکمل کریں۔
ڈاکٹرز کے مطابق ذیابیطس کے مریض خصوصی احتیاط کریں اور شوگر لیول کی بار بار جانچ کریں اور انسولین کو ٹھنڈی جگہ پر رکھیں، بھرپور نیند لیں اور اپنی پریشانیاں دوسروں کے ساتھ بانٹیں۔
ماہرین کے مطابق طرز زندگی میں چھوٹی تبدیلیاں اور پانی کا زیادہ استعمال ان موسمی خطرات سے بچنے کا بہترین حل ہے، بیماری کی صورت میں خود سے اینٹی بائیوٹکس لینے کے بجائے ڈاکٹ ر سے رجوع کریں۔