Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

وفاقی محتسب کو شکایت درج کرنے کا طریقہ کار

Procedure for filing a complaint with the Federal Ombudsman
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔
وفاقی محتسب کا مقصد عوام کو سرکاری اداروں کی زیادتی کے خلاف فوری اور سستا انصاف فراہم کرنا ہے۔
وفاقی محتسب کن اداروں کے خلاف شکایت سن سکتا ہے ؟
وفاقی محتسب کو شکایت درج کرنے کا طریقہ کار کیا ہے ؟

کیا آپ کو کسی وفاقی محکمے سے کوئی شکایت ہے، کوئی مسئلہ حل نہیں ہو رہا، افسران کام میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں، یا خرچہ پانی کے لئے بلا جواز چکرا لگوارہے ہیں ؟ ایسے میں وفاقی محتسب کا آفس آپ کی داد رسی کے لئے موجود ہے، یہ عدالت تو نہیں مگر ایک متبادل شکایتی نظام ہے جہاں شہری بغیر کسی وکیل اور فیس ادا کئے سرکاری محکموں کی نا انصافیوں کے خلاف اپنی شکایات درج کراسکتے ہیں اور فوری اور سستا انصاف حاصل کر سکتے ہیں۔

وفاقی محتسب کے اہم فرائض میں وزارتوں مثلا داخلہ، خزانہ، وفاقی سرکاری اداروں جیسے واپڈا، نادرا، پوسٹ آفس، سرکاری کارپوریشنز، خودمختار ادارے اور بعض ریگولیٹری ادارے کے خلاف شکایتیں سننا، بدانتظامی کی تحقیقات کرنا، سرکاری اداروں کو اپنی غلطیاں درست کرنے کا حکم دینا، شہریوں کو فوری و سستا انصاف فراہم کرنا ہے، تاہم یہ صوبائی محکمے، عدالتوں، مسلح افواج اور اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف شکایت سننے کا اختیار نہیں رکھتا۔

آن لائن شکایت درج کروانے کے لئے آفیشل ویب سائیٹ(https://mohtasib.gov.pk/) پر جائیں کمپلین کے ٹیب پر آن لائن کمپلین کلک کریں اسکرین پر آںے والے فارم کو درست معلومات کے ساتھ پر کریں، واضع طور پر شکایت درج کریں، کوئی ثبوت، دستاویز، رسید، اسکرین شاٹ، ادارے کو بھیجی گئی درخواست یا کوئی اور ضروری ڈاکومینٹس اگر ہوں تو اپلوڈ کریں اور سبمٹ کر دیں۔ آپ کو ایک ٹریکنگ نمبر الاٹ ہو جائے ۔شکایت سے متعلق ہونے والی پیش رفت اور کاروائی کے بارے میں آپکو بزریعہ ایس ایم ایس آگاہ کیا جائے گا۔

آپ اپنی درخواست، قومی شناختی کارڈ اور دستاویزات کے ہمراہ بذریعہ ڈاک یا ذاتی طور پر آفس جاکر بھی جمع کراسکتے ہیں، بس اس بات کا خیال رکھیں کہ معاملہ ایک سال کے اندر کا ہو اور عدالت میں زیر سماعت نہ ہو۔

وفاقی محتسب آفس معاملے کی تحقیقات کے بعد متعلقہ ادارے کو نقصان کے ازالے یا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت دے سکتا ہے جس پر وہ عمل کرنے کا پابند ہو تا ہے۔ ہاں اگر کوئی فریق فیصلے سے مطمین نہ ہو تو وہ صدر پاکستان کے پاس اپیل کرنے کا حق رکھتا ہے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement