Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

ٹریفک چالان سے متعلق جعلی میسجز کی شناخت کیسے کریں؟

Fake messages paying traffic challans and fines immediately
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔
کراچی میں فیس لیس ای چالان کا نظام شروع ہونے کے بعد ایک نئے اسکیم کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔
شہریوں کو جعلی ٹریفک چالان اور جرمانوں سے متعلق دھوکہ دہی پر مبنی میسجز موصول ہو رہے ہیں
جعلی میسجز میں عام طور پر فوری جرمانہ ادا کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے۔

فائینل وارننگ! ”آپکے نام پر جاری چالان تاحال ادا نہیں کیا گیا ہے۔ اسے فوری طور پر ادا کریں ادائیگی کے لئے نیچے موجود لنک پر کلک کریں عدم ادائیگی پر مقدمہ درج ہو سکتا ہے”۔

کیا آپ کو یا آپ کے کسی قریب عزیز کو بھی یہ پیغام موصول ہوا ہے اگر ہاں تو جاں لیں کہ یہ ایک جعلی پیغام ہے جو آپ سے رقم ہتھیانے کے لئے بھیجا گیا ہے۔

کراچی میں فیس لیس ای چالان کا نظام شروع ہونے کے بعد ایک نئے اسکیم کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ شہریوں کو جعلی ٹریفک چالان اور جرمانوں سے متعلق دھوکہ دہی پر مبنی میسجز موصول ہو رہے ہیں، جن میں ایک لنک کے ذریعے فوری ادائیگی کا بھی کہا جاتا ہے، یہ پیغامات بظاہر سرکاری معلوم ہوتے ہیں، لیکن درحقیقت یہ شہریوں کی ذاتی معلومات، بینکنگ ڈیٹا یا رقم حاصل کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔

جعلی میسجز میں عام طور پر فوری جرمانہ ادا کرنے کا دباؤ ڈالا جاتا ہے، رقم کی ادائیگی کے لئےسرکاری ویب سائیٹ سے ملتے جلتے جعلی ویب لنک فراہم کئے جاتے ہیں، اکاؤنٹ بلاک یا قانونی کارروائی کی دھمکی دی جاتی ہے، سرکاری لوگو یا نام بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

کراچی ٹریفک پولیس نے واضع کیا ہے کہ محکمہ اس قسم کا کوئی میسج صارف کو نہیں بھیجتا۔ تو آئیندہ ایسے کسی بھی غیر مصدقہ لنک پر کلک نہ کریں کسی بھی نامعلوم نمبر یا اکاونٹ میں رقم ٹرانسفر نہ کریں کسی سے بھی ذاتی یا بینکنگ معلومات ہر گز شیئر نہ کریں صرف سرکاری آفس یا بینک میں چالان جمع کرائیں او ٹی پی یا کوئی اور کوڈ ہر گز کسی سے شیئر نہ کریں کسی کی کال آنے کی صورت میں بھی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

جعلی لنک پر کلک کرنے سے آپ کا موبائل یا کمپیوٹر ہیک ہوسکتا ہے۔ بینک اکاؤنٹ کی معلومات چوری ہوسکتی ہیں او ٹی پی یا پاس ورڈ حاصل کیا جاسکتا ہے مالی نقصان یعنی اکاونٹ بھی خالی ہو سکتا ہے، اسی لیے احتیاط انتہائی ضروری ہے اگر مشکوک میسج موصول ہو تو اسے نظر انداز کریں اور ممکن ہو تو سائبر کرائم اور سیکیورٹی سے متعلق اداروں کو اس سے متعلق رپورٹ کریں۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement