چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن، پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کراچی کا پہلا سرکاری دورہ کیا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر دورے کے دوران سب سے پہلے وہ کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی (کے ایم یو) پہنچے جہاں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، دورے کے دوران چیئرمین ایچ ای سی نے وائس چانسلر کے ہمراہ مزارِ قائد پر حاضری دی اور بابائے قوم کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
اس موقع پر جامعہ میں المنائی (سابق طلبہ) کی جانب سے ایک اہم تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں کے ایم ڈی سی المنائی ایسوسی ایشن نے 46 مستحق طلبہ کے لیے 5 کروڑ روپے مالیت کی اسکالرشپس کا اعلان کیا، تقریب میں طلبہ، اساتذہ، والدین، معزز مہمانانِ گرامی اور بڑی تعداد میں المنائی نے شرکت کی، نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں۔
تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد کے ایم ڈی سی المنائی ایسوسی ایشن کی شریک بانی ڈاکٹر بشریٰ نے خطاب کرتے ہوئے اسکالرشپ حاصل کرنے والے طلبہ کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ اپنی مادرِ علمی کو واپس دینا ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر وسیم قاضی نے اپنے خطاب میں معیاری تعلیم کے فروغ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کے ایم ڈی سی کے یونیورسٹی میں تبدیل ہونے کے بعد وسائل کی کمی ایک بڑا چیلنج تھا، جسے حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے، جن میں المنائی نیٹ ورک کو فعال بنانا ایک اہم قدم تھا۔ انہوں نے اسکالرشپ اقدام کو جامعہ کے لیے ایک “سنگ میل” قرار دیا۔

چیئرمین ایچ ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد اختر نے اپنے خطاب میں جامعہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ محدود وسائل کے باوجود یہ اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے ایچ ای سی کی جانب سے تعلیمی معیار بہتر بنانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی، جن میں بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے تعلیمی سینٹرز کا قیام شامل ہے تاکہ پاکستانی ڈگریوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ طلبہ کے لیے ایک 46 گھنٹوں پر مشتمل مفت پروفیشنل ڈویلپمنٹ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے، جس سے فارغ التحصیل طلبہ کو عملی زندگی میں داخل ہونے میں آسانی ہوگی۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک جدید آن لائن جاب پورٹل کے قیام کا بھی ذکر کیا، جو طلبہ کو بین الاقوامی سطح پر روزگار کے مواقع فراہم کرے گا۔
چیئرمین ایچ ای سی نے کہا کہ جامعات صرف علم کی تخلیق کا مرکز نہیں بلکہ مہارتوں کے عملی اطلاق اور مضبوط اخلاقی اقدار کے فروغ کا ذریعہ بھی ہونی چاہئیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بغیر عملی استعمال کے علم بے معنی ہے جبکہ کردار اور دیانت داری پر کبھی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔