روشنیوں کے شہر کراچی میں جب بھی کوئی مثبت پیش رفت یا ترقیاتی کام ہوتا ہے تو اس کا کریڈٹ لینے کے لیے دعویداروں کی قطار لگ جاتی ہے، مگر جیسے ہی کوئی حادثہ پیش آئے، کوئی عمارت گرے، آگ لگے، سڑک بیٹھ جائے یا عوامی مسائل سر اٹھائیں، تو ذمہ داری ایک دوسرے کے کھاتے میں ڈال کر سب بری الذمہ ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا معاشی دارالحکومت آج بھی انتظامی انتشار کی زندہ مثال بن چکا ہے۔
کراچی رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر ہے، جس کا کل رقبہ تقریباً 3600 مربع کلومیٹر پر محیط ہے، مگر حیران کن طور پر اس شہر میں زمین کی ملکیت اور انتظامی اختیارات کسی ایک ادارے کے پاس نہیں ہیں۔ دستیاب معلومات کے مطابق کراچی میں کم از کم 15 ادارے زمین کے مالک ہیں، جبکہ تعمیرات، پانی کی فراہمی، فائر فائٹنگ، سیوریج، سڑکوں اور شہری سہولیات کے حوالے سے نصف درجن سے زائد ادارے الگ الگ اختیارات رکھتے ہیں۔ یوں کراچی بیک وقت کئی طاقتور اداروں کے درمیان تقسیم ایک ایسا شہر بن چکا ہے جہاں ہر کوئی مالک ہے، مگر ذمہ دار کوئی نہیں۔
انتظامی سطح پر بھی صورتحال کم الجھی ہوئی نہیں۔ بلدیاتی تقسیم میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کے 25 ٹاؤنز، 6 کنٹونمنٹ بورڈز کے 40 کے قریب وارڈز، 246 یونین کمیٹیاں اور 984 وارڈز، جبکہ انتظامی طور پر 7 اضلاع اور 31 سب ڈویژنز پر مشتمل یہ شہر انتظامی تقسیم کا ایک ایسا جال بن چکا ہے، جس میں شہری مسائل الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ بلدیاتی تقسیم کے مطابق کراچی کے کل رقبے کا صرف 31 فیصد کے ایم سی اور اس کے 25 ٹاؤنز کے پاس ہے، جبکہ 21 فیصد رقبہ کھیر تھر نیشنل پارک کے زیرِ انتظام ہے۔ باقی رقبہ مختلف وفاقی، صوبائی اور نیم سرکاری اداروں کے درمیان بٹا ہوا ہے۔
ماہرین کے مطابق لاتعداد اداروں کی موجودگی، بے ہنگم منصوبہ بندی اور مبینہ غیر قانونی تعمیرات نے شہر کا نقشہ مسخ کر کے رکھ دیا ہے۔ قوانین پرعملدرآمد نہ ہونے کے باعث کراچی تیزی سے کنکریٹ کے بے ترتیب جنگل میں تبدیل ہو رہا ہے، جہاں سڑکیں تنگ، نکاسیٔ آب ناکارہ اور شہری زندگی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ حکومتیں وقتاً فوقتاً شہر کے لیے ماسٹر پلان کا اعلان تو کرتی ہیں، مگر کچھ عرصے بعد وہی پلان فائلوں میں دفن ہو جاتا ہے اور ایک نئے ماسٹر پلان کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔
کراچی کی زمینی ملکیت اور شہری منصوبہ بندی میں مرکزیت کا مکمل فقدان ہے۔ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء کے تحت کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، اس کے 25 ٹاؤنز اور 246 یونین کمیٹیاں تو ہیں، مگر اختیارات اور حدود کی واضح تقسیم آج بھی ایک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں صوبائی اور وفاقی محکمے اپنی اپنی عملداری کے دعوے رکھتے ہیں۔
ان اداروں میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے)، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے)، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایم ڈی اے)، سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، سندھ کچی آبادی اتھارٹی، سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ (سائٹ)، بورڈ آف ریونیو سندھ، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے)، شہر کے چھ کنٹونمنٹ بورڈز، پاک بحریہ، پاک فضائیہ اور وزارتِ دفاع جیسے ادارے شامل ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی الگ حدود اور اختیارات رکھتا ہے۔

کمشنر کراچی ڈویژن کی ویب سائٹ کے مطابق کراچی کا کل رقبہ 3527 مربع کلومیٹر ہے، جبکہ ماسٹر پلان 2020ء میں یہ رقبہ 3570 مربع کلومیٹر بتایا گیا ہے۔ اسی ماسٹر پلان کے مطابق کراچی کے کل رقبے میں سے کے ایم سی کے 25 ٹاؤنز 30.9 فیصد، کھیر تھر نیشنل پارک 20.7 فیصد، حکومتِ سندھ 17.7 فیصد، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی 5.6 فیصد، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی 5 فیصد، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی 3.9 فیصد، نجی ملکیت 3.9 فیصد، کراچی پورٹ ٹرسٹ 2.8 فیصد، صنعتی و تعلیمی مقاصد کے لیے مختص زمین 2.7 فیصد، چھ کنٹونمنٹ بورڈز 2.1 فیصد، کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹیاں 1.8 فیصد، پورٹ قاسم 1.5 فیصد، سائٹ 0.6 فیصد، حکومتِ پاکستان 0.5 فیصد اور پاکستان ریلوے کے پاس صرف 0.4 فیصد زمین ہے۔
ماہرینِ شہری نظم و نسق اس تقسیم در تقسیم کو کراچی کی بدانتظامی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق جب تک شہر کو کسی ایک مضبوط اتھارٹی کے تحت نہیں لایا جاتا یا کم از کم ون ونڈو نظام نافذ نہیں کیا جاتا، تب تک مسائل حل ہونے کے بجائے مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔
کراچی میں رہائشی اور کمرشل تعمیرات کے لیے قوانین بھی موجود ہیں اور ان پر عمل کرانے والے ادارے بھی، مگر عملی طور پر اداروں کی یہ تقسیم ہی سب سے بڑی رکاوٹ بن جاتی ہے۔ کسی بھی عمارت کی تعمیر کے لیے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی منظوری بنیادی شرط ہے، مگر اس کے باوجود دیگر متعدد اداروں سے اجازت لینا لازم قرار دیا گیا ہے۔ یہی صورتحال سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور یوٹیلیٹی منصوبوں کی ہے، جہاں ایک سڑک کئی محکموں کی حدود میں آ کر ذمہ داری کے تعین کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔
یوں کراچی ایک ایسے شہر کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں زمین کئی کی ہے، اختیار کئی ہاتھوں میں ہے، مگر جواب دہی کہیں نظر نہیں آتی۔ سوال یہ ہے کہ کیا روشنیوں کا یہ شہر کبھی انتظامی تاریکی سے نکل سکے گا، یا تقسیم در تقسیم ہی اس کا مقدر بنی رہے گی؟