گھروں میں کام کرنے والے مرد و خواتین کے حقوق کا تحفظ، اوقات کار کے تعین اور انکے استحصال کے خاتمے کے لئے سندھ حکومت نے سندھ ڈومیسٹک ورکرز ویلفیئر بل2025 متفقہ طور پر منظور کرلیا۔
گورنر سندھ کی منظوری کے بعد بننے والے قانون کے تحت گھریلو ملازم کو نوکر یا ملازم کہنا ممنوع ہوگا، انہیں قانونی طور پر گھریلو کارکن کا نام دیا گیا ہے۔ 16 سال سے کم عمربچوں سے مزدوری اور گھریلو کام کروانا قانونا جرم ہو گا جبکہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں سے صرف ہلکا کام لیا جا سکے گا۔
مالکان گھروں میں مقیم گھریلو کارکنان سے بھی چوبیس گھنٹے کام نہیں لے سکیں گے، گھریلو کارکن سے روزانہ صرف 8 گھنٹے کام لیا جا سکے گا جبکہ ہفتے میں ایک دن کی چھٹی لازمی ہوگی اور اگر ساتویں دن کام کروایا گیا تو مالک کو دگنی تنخواہ یعنی ڈبل اوور ٹائم دینا ہوگا۔
کارکنان کو سال میں 10 اتفاقی (Casual) اور 8 بیماری کی چھٹیاں ملیں گی، اس کے علاوہ تمام مذہبی تہواروں پر تنخواہ کے ساتھ چھٹیاں دی جائیں گی، خواتین ملازمین کو ڈلیوری کے وقت 6 ہفتے کی بامعاوضہ چھٹی دینا لازمی ہوگا جبکہ مالکان بیمار کارکنان کو چھٹی دینے کے قانونی طور پر پابند ہوں گے۔
نئے قانون کے تحت ملازمت کا باقائدہ تحریری اپوائینٹمنٹ لیٹر دیناہوگا، کسی بھی گھریلو کارکن کی تنخواہ حکومتِ سندھ کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کم نہیں رکھی جا سکے گی۔ گھر میں رہنے والے ملازمین کو مناسب آرام کے وقفے، طبی سہولیات اور معیاری کھانا فراہم کرنا مالک کی ذمہ داری ہوگی۔
مالک اور ملازم کے درمیان کسی بھی قسم کے تنازع یا تنخواہ کی عدم ادائیگی کی صورت میں شکایت درج کرانے کے لیے ایک ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیٹی قائم کی جائے گی، جسکی سربراہی گریڈ 16 کا سرکاری افسر کرے گا، اگر کوئی فریق کمیٹی کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہوگا تو وہ ہر ضلع میں قائم اپیلٹ اتھارٹی کے پاس اپیل دائر کرنے کا حق رکھے گا۔