پاکستان میں غیر ملکی سمز کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی مونیٹا ئزیشن کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے، یقین نہ آئے تو گوگل کر کے دیکھ لیں، غیر معروف ہی نہیں مستند اور معروف ای کامرس پلیٹ فارم پر بھی غیر ملکی سم نہ صرف بنا روک ٹوک انتہائی سستے داموں فروخت ہو رہی ہیں بلکہ ان سمز کی گھر تک باآسانی ڈلیوری کی سہولت بھی دستاب ہے۔
تاہم پی ٹی اے کے مطابق ان غیر ملکی سمز کی خرید و فروخت اور استعمال نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ یہ آپکی اور ملکی سالمیت کے لئے خطرہ بھی بن سکتا ہے۔ یہ سم دہشت گردی، جرائم کی وارداتوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں بھی استعمال ہو سکتی ہیں جسکے نتیجے میں آپ کی ذاتی اور فنانشل معلومات خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کی ایک رپورٹ کے مطابق چونکہ برطانوی سم کے ذریعے نہ صرف ٹک ٹاک بلکہ واٹس ایپ اور دیگر سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بھی مالی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے غیر قانونی ہونے کے باوجود اس کےاستعمال اور فروخت میں بہت ذیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں سوشل میڈیا ایکسپرٹ کا کہناتھا کہ سب سے ذیادہ ڈیمانڈ برطانوی سمز کی ہیں کیونکہ برطانوی سم ہونے کے باعث گوگل ان کے ذریعے چلنے والے سوشل میڈیا مواد کو زیادہ فروغ دیتا ہے جو مقامی سمز کے ساتھ ممکن نہیں ہے۔
پی ٹی اے حکام کے مطابق ہر شخص صرف وہی سم اپنے فون میں استعمال کر سکتا ہے جو اس کے نام پر رجسٹرڈ ہو، چاہے سم ملکی ہو یا غیر ملکی اگر وہ صارف کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہے تو اسے غیر قانونی تصور کیا جائے گا، سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ایسی سم چونکہ کسی پاکستانی شہری کے نام رجسٹرڈ نہیں ہوتیں اس لئے ان کے ذریعے کی جانے والی کالز اور پیغامات کو ٹریس کرنا مشکل ہوتا ہے۔
اس لئے ہمیشہ ایسی سمز کا استعمال کریں جو پاکستان کے مجاز آپریٹرز کی جانب سے جاری کی گئی ہوں اور آپکے نام پر رجسٹرڈ ہو۔ یاد رکھیں، ایک غیر قانونی سم وقتی سہولت اور فائدہ تو پہنچا سکتی ہے، لیکن اس کے خطرات طویل مدتی اور سنگین ہو سکتے ہیں۔