Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

10 لاکھ بیرل امریکی خام تیل کراچی کب پہنچے گا؟

Pakistan will import oil from US for first time, agreement reached
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

امریکہ سے معاہدے کے بعد پاکستان کی سب سے بڑی ریفائنری سِنرجیکو رواں سال اکتوبر میں امریکی کمپنی وِٹول سے 10 لاکھ بیرل امریکی خام تیل درآمد کرے گی۔

سِنرجیکو ریفائنری کے وائس چیئرمین اسامہ قریشی نے غیر ملکی خبر ایجنسی سے گفتگو کے دوران بتایا ہے کہ امریکا کے ساتھ تاریخی تجارتی معاہدے کے بعد پاکستان کی جانب سے امریکی خام تیل کی یہ پہلی خریداری ہے۔ اسامہ قریشی کا کہنا ہے کہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ لائٹ خام تیل اس ماہ ہیوسٹن سے لوڈ کیا جائے گا۔

اسامہ قریشی کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ امریکی خام تیل اکتوبر کے وسط میں کراچی پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ خام تیل کی درآمد وِٹول کے ساتھ جامع معاہدے کے تحت ایک آزمائشی اسپاٹ کارگو ہے، اگر ممکن ہوا تو سِنرجیکو ہر ماہ کم از کم ایک امریکی خام تیل کا کارگو درآمد کر سکتی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکی خام تیل کی یہ کھیپ دوبارہ فروخت کے لیے نہیں ہے۔ دوسری جانب امریکا کی نئی ٹیرف پالیسی کے تحت پاکستان کو بھارت پر تجارتی برتری حاصل ہو گئی ہے۔

مزید پڑھیں:سندھ میں تیل کے نئے ذخائر دریافت

امریکی انتظامیہ نے پاکستانی مصنوعات پر صرف 19 فیصد ٹیرف عائد کیا ہے، جبکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف نافذ کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی تجارتی توازن کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا ہے، جس کے تحت پاکستان کو جنوبی ایشیا میں سب سے کم ٹیرف دیا گیا ہے۔

امریکی اعلامیہ کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک پر مختلف سطح کے ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ جنوبی افریقا پر 30 فیصد، سوئٹزرلینڈ پر 39 فیصد، ترکیہ اور اسرائیل پر 15 فیصد، جبکہ کینیڈا پر ٹیرف 25 سے بڑھا کر 35 فیصد کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ، برازیل اور فاکلینڈز پر 10 فیصد، بھارت، قازقستان، تیونس اور مالدوا پر 25 فیصد، میانمار اور لاوس پر 40 فیصد اور شام پر سب سے زیادہ یعنی 41 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Read More

سانگھڑ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کرلیا گیا ہے تیرہ جون کو سومار ولد یارو بھن نامی شخص کی ایک اونٹنی ضلع سانگھڑ میں واقع ایک کھیت سے گزری، جو مبینہ طور پر جعفر نامی ایک اور شخص کا تھا۔وڈیرے نے پہلے ملازمین کے ہمراہ اونٹنی پر تشدد کیا اور پھر کلہاڑی سے دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹ دیا تھا پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دو کلہاڑیاں برآمد کی گئی ہیں اور دو ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔عدالت نے تمام ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے وڈیرے کو کلین چٹ دے دی، ڈی ایس پی لون خان شر کا کہنا ہے کہ جہاں واقعہ ہوا وہ غلام رسول کی زمین نہیں ہے، یہ زمین دوسرے وڈیرے کی ہے، ہمیں غلام رسول کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا

Close Button
Advertisement