Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

پی ٹی آئی کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کے سوا کوئی راستہ نہیں، وزیردفاع

اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں فیصلہ کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو روکنے کے لیے طاقت کے استعمال کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔

جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ اس وقت فیصلہ کن صورتحال پیدا ہوگئی ہے کیونکہ مذاکرات کی جو کوشش ہوئی ہے اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا، پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ ڈی چوک جانا چاہیئے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ حکومت کے پاس طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ نہیں، حکومت بتائے کہ ہر صورت دارالخلافہ کی حفاظت کرنی ہے، مظاہرین اسلام آباد میں بیٹھ گئے تو ملک کے لیے بہت بڑا دھچکا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ کہ پی ٹی آئی کی سیکنڈ ٹیئر لیڈرشپ میں خلوص ہے، نرمی ہے، بشری بی بی اور بانی پی ٹی آئی ذاتی ایجنڈے پر ہیں، بشری بی بی کو اس سے بڑا کیا موقع مل سکتا ہے، بشریٰ بی بی کو لیڈر بننے کا لائف ٹائم موقع ملا ہے، بشری بی بی اس موقع سے پورا فائدہ اٹھائیں گی، بیرسٹر گوہر اور دیگر نے سنجیدگی سے بات چیت کی کوشش کی۔

وزیردفاع نے کہا کہ بشری بی بی سمجھوتا کرنے کے موڈ میں نہیں، بشری بی بی کو احساس ہے کہ اس وقت پاور ان کے ہاتھ میں ہے، اس وقت سارے کارڈ بشریٰ بی بی کے ہاتھ میں ہیں اور وہی ساری صورتحال کنٹرول کررہی ہیں، مذاکرات کی ایک سنجیدہ کوشش ہوئی ہے اور پی ٹی آئی رہنما بھی چاہتے تھے کہ کوئی حل نکلے لیکن بشریٰ بی بی موجودہ صورت حال کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہیں۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جو ہورہا ہے وہ کسی حد تک سرپرائز ہوسکتا ہے اور اس وقت فیصلہ کن صورت حال پیدا ہوچکی ہے، پی ٹی آئی سمجھتی ہے اس وقت ڈی چوک کی طرف بڑھنے میں ہی فائدہ ہے، پی ڈی ایم دور میں رانا ثنا نے طاقت کا استعمال کیا تھا اور عمران خان چلے گئے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی رہنماؤں نے نیک نیتی سے بات کی لیکن بشریٰ بی بی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Read More

سانگھڑ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کرلیا گیا ہے تیرہ جون کو سومار ولد یارو بھن نامی شخص کی ایک اونٹنی ضلع سانگھڑ میں واقع ایک کھیت سے گزری، جو مبینہ طور پر جعفر نامی ایک اور شخص کا تھا۔وڈیرے نے پہلے ملازمین کے ہمراہ اونٹنی پر تشدد کیا اور پھر کلہاڑی سے دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹ دیا تھا پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دو کلہاڑیاں برآمد کی گئی ہیں اور دو ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔عدالت نے تمام ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے وڈیرے کو کلین چٹ دے دی، ڈی ایس پی لون خان شر کا کہنا ہے کہ جہاں واقعہ ہوا وہ غلام رسول کی زمین نہیں ہے، یہ زمین دوسرے وڈیرے کی ہے، ہمیں غلام رسول کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا

Close Button
Advertisement