سوشل میڈیا پر ایک عام سی وکڑی پوسٹ آپ کے ڈیجیٹل شناخت کو خطرے میں ڈال سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا بھی سبب بن سکتی ہے۔
حالیہ چینی تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی جانی والی ایک عام سی وکٹری کے نشان والی پبلک پوسٹ آپ کے فنگر پرنٹس کی چوری اور اسکے غیر قانونی استعمال کا زریعہ بن سکتی ہے یہاں تک کہ آپ کے بینک اکونٹس کو خالی کرنے کا سبب بھی۔ اور یہ صرف مفروضہ نہیں بلکہ سوشل میڈیا پوسٹ سے فنگر پرنٹس کو ری کنسٹرکٹ کر کے انکے زریعے اسمارٹ فون اور ڈیوائسز پر بائیو میٹرک اٹیکس کی کوشش کے کئی واقعات سامنے آچکے ہیں۔
فنگر پرنٹ آپ کا ایک حساس اور منفرد ڈیٹا ہے جو آپکی شناخت اور ڈیجیٹل ڈیوائسز اور مختلف حساس ایپس کو ان لاک کرنے اور لاگ ان ہونے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ فنگر پرنٹ کے زریعے آپ اپنے فون، لیپ ٹاپ کو ان لاک کر سکتے ہیں یہی نہیں بلکہ اپنے بینکس اور دیگر آن لائن پیمنٹ ایپس جیسے ایزی پیسہ، جیز کیش اور دیگر کو بھی لاگ ان کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
ملک کے سب سے حساس ادارے نادرا کا ڈیٹا سسٹم اور ایپ بھی بائیو میٹرک ڈیٹا سے محفوظ بنایا گیا ہے۔ آپ اپنے پاس وڈز تو تبدیل کرسکتے ہیں مگر کسی بھی صورت اپنے فنگر پرنٹ کو تبدیل نہیں کر سکتے اور اسکی ایک اور سب سے بڑی خوبی اس کا منفرد ہونا ہے، یعنی دنیا بھر میں ایک فنگر پرنٹ کے حامل دو افراد نہیں ہو تے اور یہ آپکی منفرد شناخت ہو تی ہے۔
یعنی اگر ایک دفعہ غلطی ہو گئی اور کسی نے آپکے فنگر پرنٹ چرا لئے تو اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک عوامی خطرہ نہیں بلکہ یہ اہم شخصیات، پبلک فیگ، انفلوینسر، ایگزیکٹوز یا اعلی عہدوں پر فائز حکومتی نمائندوں سے جڑا ہوا ہے، لیکن ضروری ہے کہ عام آدمی بھی احتیاط برتے اور محفوظ رہے۔
اسکے لئے ضروری ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر اپنی عوامی پوسٹ میں وکڑی سائن والی پوسٹ میں فنگر پرنٹ والی سائیڈز کی تصاویر خاص طور پر ہائی ریزولوشن والی پوسٹ شیئر کرنے سے گریز کریں اور اہم یا حساس ایپس یا اکاونٹ لاگ ان کرنے کے لئے صرف فنگر پرنٹ کا استعمال نہ کریں اور ساتھ کوئی پاس وڈ بھی ضرور شامل کریں۔