نئی گاڑی کی رجسٹریشن ہو، ٹرانسفر یا ٹیکس کی ادائیگی اب یہ سب اسی صورت ممکن ہو گا جب آپ کے پاس ویلڈ انشورنس موجود ہو۔ کیونکہ سندھ حکومت نے صوبے میں تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس لازمی قرار دے دی ہے۔
یہ انشورنس آپ کسی بھی منظور شدہ انشورنس کمپنی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ سوک سینٹر کراچی کے ایکسائز آفس میں کاونٹر بھی قائم کئے گئے ہیں جبکہ آپ گھر بیٹھے سندھ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی ویب سائیٹ (https://excise.gos.pk/) کے زریعے بھی انشورنس کا عمل مکمل کر سکتے ہیں۔
اسکے لئے سندھ ایکسائیز ڈپارٹمنٹ کی ویب سائیٹ پر کوئیک آن لائن ٹیکس پیمنٹ کے آپشن پر جائیں فور وہیل سلیکٹ کریں، اپنا موبائل نمبر، گاڑی کا نمبر اور پھر کیپچا فل کریں وہیکل ڈیٹیل اور پھر کیلکولیٹ اماونٹ پر کلک کریں تو میسج ونڈو اوپن ہو جائے گی، اب پروسیڈ پر کلک کریں تو ایم ٹی پی آئی کی ویب سائیٹ (https://mtpi.pk/) اوپن ہو جائے گی۔
پہلے اسٹیپ میں تین آپشن ٹیکس، نیو رجسٹریشن یا ٹرانسفر میں سے کوئی ایک سلیکٹ کریں دوسرے اسٹیپ میں شناختی کارڈ اور گاڑی کا نمبر درج کریں تیسرے اسٹیپ میں گاڑی اور مالک کی تفصیل سامنے آجائے گی یہاں اپنا موبائل نمبر درج کریں، بکس میں چیک لگائیں، انشورنس ٹائپ یعنی تکافل یا روایتی اور چاہیں تو کسی ایک انشورنس کمپنی کا انتخاب بھی کرلیں۔ باکس میں چیک لگائیں اور ویری فائی ہونے کے بعد سبمٹ کر دیں۔
اگلے مرحلہ پیمنٹ کا ہے آپ ڈیپبٹ یا کریڈٹ کارڈ یا پھر آن لائن والٹ سے بھی ادائیگی کرسکتے ہیں۔ انشورنس کی مدت ایک سال ہو گی رکشے کا سالانہ پریمیم 1258 روپے، 1000سی سی تک کی گاڑیوں کا 2428 روپے جبکہ دیگر گاڑیوں کے لئے ریٹس تقریبا ساڑھے چار ہزار سے ساڑھے نو ہزار کے درمیان ہیں، ٹرک اور ہیوی کمرشل وہیکل کی پریمیم تقریبا ساڑھے 17 ہزار سے ساڑھے29 ہزار روپے کے درمیان ہے۔
تھرڈ پارٹی پالیسی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ حادثے کی صورت میں متاثرہ فریق کو فوری مالی امداد مل سکے۔ سندھ حکومت نے حادثے میں موت پر 7 لاکھ، مستقل معذوری پر 5 لاکھ جبکہ دیگر مختلف جسمانی نقصان پر رقم کی مختلف حد مقرر کی ہیں۔
سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس موٹر انشورنس ریپوزٹری (Motor Insurance Repository) بھی قائم کیا ہے۔ ٹریفک پولیس اور ایکسائز حکام اس نظام کے ذریعے آپ کی انشورنس پالیسی کو براہِ راست آن لائن چیک کر سکتے ہیں۔ سندھ حکومت نے عوام کی سہولت کے لیے اس انشورنس پر سیلز ٹیکس کو بھی 15 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا ہے۔