کھانا کراچی کا لذید ہے یا لاہور کے کھانے ذیادہ ذائقے دار ہیں، نہاری ذاہد کی بہترین ہے یا پھجےکے پائے قیمے والے نان لاہوری اچھے بناتے ہیں یا کراچی والے اور بریانی کراچی کی اچھی ہے یا لاہور کی۔
یہ ایک ایسی بحث ہے جو برسوں سے جاری مگر کبھی بھی منتقی انجام تک نہ پہنچ سکی اور پہنچے بھی کیسے کراچی والے ذائقے اور معیار میں خود کو بہترین سمجھتے ہیں تو دوسری جانب لاہور کھابوں کو اپنا مذہب مانتے ہیں۔ بقول معروف صحافی عامر متین کراچی والے اچھا کھانے پینے کے شوقین ہیں۔ وہاں دنیا کا کھانا میئسر ہے مگر لاہور میں کھانا پینا ایک مذہب ہے، زندگی کا مقصد ہے، لاہوروالے جیتے ہی کھانے کے لئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکس پر گذشتہ دنوں چھڑنے والے بحث اس وقت ٹرینڈ بن گئی جب ملک کی معروف شخصیات سمیت سیکڑوں افراد اس گفتگو میں شریک ہو گئے ۔ سینئر سیاست دان چوہدری فواد حسین کا کہناتھا کہ کراچی کے کھانوں میں مختلف علاقوں کی محبتیں بھی ہیں ۔ مگر لاہور کے کھانوں اور تاریخ و تہذیب کا مقابلہ مشکل ہے، ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ مری اور اسلام آباد کا کھانا انتہائی برا ہے جس پر سینئر صحافی انصار عباسی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ مری بچارہ کہاں اس بحث میں آ گیا۔
آل راونڈر وسیم اکرم نے یہ کہہ کر گفتگو ختم کرنے کی کوشش کی کہ مسجد شہدا کے چکڑ چھولے ، گلبرگ کے دیسی چکڑ چھولے، ہو ٹل سے چانپیں بھی منگوائیں مگر صرف مرچے ہی مرچے کھائیں وارث کی نہاری اور حنیفے کے پائے ، اسطرح کی چیزیں بہت ہیں مگر کراچی میں ہر قومیت کا مکس کھانا ہے ایک جگہ ملتا ہے لاہوری تو اتنے مرچے کبھی نہیں کھاتے تھے یہ کہاں سے آگئے کھانوں میں۔
ایک صارف نے کہا کہ لاہور کڑاہی، پائے ، چنے نان ، پراٹھے بھتورے اور دیگر کھانوں میں سبقت رکھتا ہے جبکہ کراچی کا فوڈ کلچر اور اسکی جڑیں یوپی سی پی اور ہجرت سے جڑی ہوئی ہیں تو کسی نے لکھاکہ شیرمال، نہاری، بہاری کباب، قلفی، فالودے، کراچی پکوان جنت ہے۔
ایک صارف نے لکھا کہ کراچی کی نہاری پسند ہےمگر وہ لاہور میں وارث کی نہاری بھی ٹرائی کرنا چاہتے ہیں ایک صارف نے لکھا کہ کراچی کا کھانا پاکستان بھر میں نمبر ون ہے لاہور اور اسلام آباد سے اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ ایک صارف نے کہا کہ کراچی میں کھانوں کی لاہور کے مقابلے میں ذیادہ اقسام ہیں لیکن دونوں شہروں کے اپنے اپنے بہترین کھانے ہیں جن کا آپ مقابلہ کرسکتے ہیں۔
ایک صارف نے کہا کہ کراچی کے کھانوں کو دفاع کی ضرورت نہیں، اسکا ذائقہ خود بولتا ہے۔ بحث طویل ہے مگر یہ بھی طے ہے کہ ہر کسی کا اپنا ٹیسٹ اور اپنی رائے پسند ہے جس کا احترام یقینا ضروری ہے۔