صحت بخش اور توانائی کا زریعہ ہونے کی وجہ سے دودھ ہماری روزمرہ غذا کا اہم حصہ ہے۔ لیکن ملاوٹ کے بڑھتے رجحان نے اس بنیادی خوراک پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ پہلے دودھ میں صرف پانی ملانے کی شکایات ہوتی تھیں، مگر اب اس میں مختلف کیمیکلز بھی شامل کیے جا رہے ہیں جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔
ایکسپریس نیوز میں شائع ایک رپورٹ میں ماہرین کا کہنا ہے کہ دودھ کو زیادہ گاڑھا، سفید اور کریمی دکھانے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ، اسٹارچ، یوریا اور یہاں تک کہ ڈالڈا گھی بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم چند سادہ گھریلو طریقوں کی مدد سے یہ جاننا ممکن ہے کہ دودھ خالص ہے یا ملاوٹ شدہ ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دودھ کا ذائقہ غیر معمولی محسوس ہو تو اس میں آدھا چمچ سویا بین یا دال کا پاؤڈر شامل کریں اور چند منٹ بعد سرخ لٹمس پیپر ڈالیں۔ اگر پیپر نیلا ہوجائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دودھ میں یوریا شامل کیا گیا ہے۔
دودھ کو جھاگ دار بنانے کے لیے بعض اوقات اس میں صابن ملایا جاتا ہے۔ اس کی جانچ کےلیے دودھ اور پانی کو برابر مقدار میں ایک بوتل میں ڈال کر ہلائیں۔ اگر جھاگ زیادہ بنے اور دیر تک قائم رہے تو سمجھ لیں کہ دودھ میں ڈٹرجنٹ موجود ہے، اگر دودھ میں غیر معمولی چکنائی محسوس ہو تو اس میں چند قطرے ہائیڈروکلورک ایسڈ اور ایک چمچ چینی شامل کریں۔
چند منٹ بعد اگر رنگ سرخ ہوجائے تو اس کا مطلب ہے کہ دودھ میں ڈالڈا گھی ملایا گیا ہے۔ دودھ کو گاڑھا دکھانے کے لیے دکاندار اس میں آٹا یا اسٹارچ شامل کرتے ہیں۔ اس کا پتہ لگانے کے لیے گرم دودھ میں آیوڈین کے چند قطرے ڈالیں۔ اگر رنگ نیلا ہوجائے تو یہ ملاوٹ کی واضح نشانی ہے، جبکہ خالص دودھ کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔
دودھ میں پانی کی آمیزش جانچنے کے لیے ایک ہموار سطح پر دودھ کا ایک قطرہ ڈالیں۔ اگر دودھ آہستہ آہستہ بہے تو یہ خالص ہے، لیکن اگر فورا بہنے لگے تو اس میں پانی شامل ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے تحفظ کے لیے دودھ، کی جانچ کرتے رہیں تاکہ گھر والوں کی صحت کو محفوظ رکھا جا سکے۔