گلگت بلتستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کا سلسلہ 1970ء میں شروع ہوا اور 3 نومبر 1999ء تک جاری رہا، 12 اکتوبر 2004ء کو ناردرن ایریاز قانون ساز کونسل (موجودہ گلگت بلتستان اسمبلی ) کے انتخابات کے ساتھ بلدیاتی پولنگ ہونی تھی، مگر سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں پاکستان کا بلدیاتی نظام گلگت بلتستان میں لاگو نہ ہونے کی وجہ سے بلدیاتی انتخابات نہ ہوسکے اور بعد میں 2009ء میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سید مہدی شاہ، 2015ء میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حافظ حفیظ الرحمان، 2020ء میں پاکستان تحریک انصاف کے خالد خورشید خان اور 2023ء میں پاکستان تحریک انصاف منحرف گروپ کے حاجی گلبر خان وزرائے اعلیٰ منتخب ہوئے اور اپنی حکومتوں کے ادوار میں بلدیاتی الیکشن کرانے میں کامیاب نہ ہوسکے
ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان راجہ شہباز خان کی ذاتی کوشش سے بلدیاتی ایکٹ 2023ء بنا اور اسی کے مطابق 2024ء میں بلدیاتی حد بندی گلگت بلتستان میں 40 سال میں پہلی بار ہوئی اور 2025ء میں الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی پہلی ڈیجیٹل و ساتویں مردم شماری 2023ء کے مطابق مکمل کی جس کے بعد صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول جاری کردیا ہے۔ شیڈول کے مطابق 19 دسمبر 2025ء سے انتخابی عمل شروع ہوگا اور 14 فروری 2024ء کو مختلف کیٹگری کی 1302 جنرل نشستوں کے لئے پولنگ ہوگی، جبکہ خواتین کی 412 مخصوص نشستیں بعد میں پر ہونگی۔

گلگت بلتستان میں 21 سال کے بعد پہلی بار بلدیاتی انتخابات کرانے کے فیصلے پر صوبے میں انتہائی مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے، 18 دسمبر 2025ء گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابی شیڈول کے حوالے سے ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس (APC) میں شریک تمام جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر راجہ شہباز خان کے عمل کو تاریخی اور قابل تحسین قرار دیا۔ بلدیاتی انتخابی شیڈول تاہم موسم کی سنگینی کی وجہ سے انتخابی شیڈول اپریل کے آخر یا مئی 2026ء کے شروع تک ملتوی کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
چیف الکشن کمشنر گلگت بلتستان “ٹائمز آف کراچی” سے گفتگو میں کہاکہ بلدیاتی انتخابی شیڈول میں ترمیم پر غور کریں گے اور یہ بھی غور ہوگا کہ گلگت بلتستان اسمبلی کے ساتھ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد میں کوئی انتظامی مشکل تو نہیں ہوگی۔ چیف الیکشن کمیشن گلگت بلتستان کے مطابق بلدیاتی قانون کی تیاری، حدبندی اور حلقہ بندی تک 2 برس کا عرصہ لگاہے اور عوامی خواہشات و امنگوں کے مطابق بلدیاتی انتخابات جلد پائے تکمیل کو پہنچائیں گے۔
یاد رہے کہ یہ بلدیاتی انتخابات گلگت بلتستان میں 21 سال بعد پہلی بار بلدیاتی ایکٹ 2023ء کے تحت ہورہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے ریکارڈ کےمطابق صوبے کے مختلف اضلاع میں شہری اور دہی علاقوں کی بنیاد پر مختلف کیٹگری کے 5 بلدیاتی ادارے بنائے گئے ہیں، جن میں 3 میونسپل کارپوریشن، 8 میونسپل کمیٹیاں، 4 ٹائون کمیٹیاں ، 10 ضلع کونسلیں اور 162 یونین کونسلیں ہیں۔ ان اداروں میں مجموعی طور پر جنرل اور خواتین کی 1714 نشستیں ہیں۔ تمام کیٹگری کی جنرل نشستوں پر عوامی نمائندوں کا انتخاب بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ہوگا۔