ایم کیو ایم نے ملک میں نئے صوبوں کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے قومی ڈائیلاگ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر صوبے بنانا غداری تھا تو آئین میں اس کا ذکر کیوں موجود ہے، عوام کے جائز حق کو عوام تک پہنچانا غداری نہیں ہے۔ مگر پیپلز پارٹی کے رہنما کسی صورت بھی سندھ میں نئے صوبے بنانے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایم کیو ایم کے بیانیے پر اپنے رد عمل میں وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا سندھ تقسیم نہیں ہوگا لیکن وہ ایم کیو ایم کو تقسیم ہوتا ہوا ضرور دیکھ رہے ہیں۔ جبکہ صوبائی وزیر سعید غنی نے دو ٹوک الفاظ میں واضع کر دیا کہ جو مرضی کرلیں ، سندھ میں نیا صوبہ نہیں بنے گا۔
ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام میں گفتگو کر تے ہوئے کہا کہ صرف بات کرنے سے یا پوڈکاسٹ کرنے سے تو صوبے نہیں بن سکتے۔مقتدرہ نے ابھی تک حکومت سے صوبوں کے معاملے پرکوئی گفتگو نہیں کی، نہ ہی یہ معاملہ ابھی تک کابینہ یا پارلیمنٹ میں زیر بحث آیا ہے۔
مگر ایم کیو ایم رہنما مصطفی کمال کو یہ بات کچھ پسند نہیں آئی انہوں نے کہا کہ رانا ثنا اللہ کو پتہ بھی نہیں چلےگا اور صوبوں کے قیام سے متعلق ترمیم آجائےگی۔ ساتھ ہی پیپلز پارٹی کو بھی مشورہ دیا کہ وہ وہاں جا کر ناراضگی کا اظہار کریں جہاں سے یہ بات شروع ہوئی ہے، جو کروانے والے ہیں وہ یہ کام بھی کروالیں گے۔