Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

کراچی میں شلوار قمیض پہننے پر ہوٹل میں داخلہ نہ دینے پر شوبز شخصیات کا رد عمل

Showbiz Personalities Reacted Karachi Restaurant Management
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

کراچی کے ریسٹورنٹ انتظامیہ کی جانب سے شلوار قمیض پہنے افراد کو ہوٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے کے واقعہ پر شوبز شخصیات کا ردعمل سامنے آگیا ہے۔

شوبز شخصیات نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی لباس پہننے والوں کے ساتھ ایسا رویہ شرمناک ہے۔ اداکار یاسر حسین نے خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے انسٹاگرام اسٹوری میں لکھا کہ شلوار قمیض کے ساتھ کچھ زیادہ ہی بدتمیزی ہو رہی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ بہت سارے کلبز اور فائن ڈائن ریسٹورنٹ میں یہ معاملہ شروع ہوگیا ہے، شلوار قمیض کا بھی اردو زبان والا حال کریں گے، ہر کوئی انگریز بننا چاہتا ہے۔

مشی خان نے بھی واقعے پر رد عمل دیتے ہوئے اپنی ویڈیو میں شلوار قمیض پہنے افراد کو ہوٹل میں داخل نہ ہونے کی اجازت دینے کے واقعے کو شرم ناک قرار دیا۔ اداکارہ کا کہنا تھا کہ یہ شرم کا مقام ہے کہ قومی لباس پہننے والے افراد کو ہوٹل میں داخل نہ ہونے دیا، ان کی تذلیل کی گئی۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by Mishi Khan MK (@mishikhanofficial2)

مزید پڑھیں:عدالت کا ریسٹورنٹ مسمار کرنے پر ایس بی سی اے کو جرمانے کا حکم

انہوں نے کہا کہ ہم لوگ انگریز بننا چاہتے ہیں، شلوار قمیض جیسے لباس کو غریبوں کا لباس قرار دے کر اس سے نفرت کرنے لگے ہیں جب کہ تنگ جینز، شارٹس اور دوسرے مختصر لباس کو عزت دی جاتی ہے، اسے اہم سمجھا جاتا ہے۔

مشی خان نے طنز کیا کہ کراچی کے ڈی ایچ اے میں ہوٹل تھا، سوئٹزرلینڈ میں نہیں تھا، قومی لباس پہننے والوں کے ساتھ شرمناک رویہ اختیار کیا گیا۔ مشی خان نے مداحوں سے وعدہ کیا کہ وہ مذکورہ ہوٹل کا نام معلوم کریں گی، اس کے بعد وہ مداحوں کو بھی اس سے آگاہ کریں گی۔

واضح رہے کہ خبر سامنے آئی تھی کہ شلوار قمیض پہننے پر ہوٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہ دینے پر متاثرہ شہری ایڈوکیٹ عبدالطیف بلوچ نے کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں واقع ریسٹورنٹ کے خلاف کنزیومر کورٹ سے رجوع کرلیا۔

متاثرہ شہری نے دعویٰ کیا کہ وہ 18 مئی کو اپنے دوستوں کے ہمراہ شلوار قمیض پہن کر ہوٹل میں کھانا کھانے گئے لیکن انتظامیہ نے انہیں کپڑوں کی وجہ سے اندر جانے نہ دیا اور کہا کہ شلوار قمیض غریبوں کا لباس ہے، ہم پینڈو لوگوں کو کھانا نہیں دیتے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement