کراچی، پاکستان کا سب سے بڑا اور معاشی لحاظ سے سب سے اہم شہر، آج کل قدرتی آفات کے شدید خطرات کی زد میں ہے۔ حالیہ دنوں میں آنے والے چھوٹے زلزلوں کی تعداد 55 ہو چکی ہے، جو نہ صرف ماہرینِ ارضیات بلکہ ماہرینِ ماحولیات اور شہر منصوبہ سازوں کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا خطرہ صرف زلزلے تک محدود ہے؟
اس انتہائی سنجیدہ مسئلے پر ہم نے معروف ماہرِ ماحولیات مسعود لوہار کا انٹرویو کیا، جنھوں نے کراچی میں آنے والے زلزلوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مسعود لوہار کے مطابق:
کراچی میں زلزلوں کی وجہ؟
کراچی ایک بڑے سیسمک فالٹ لائن پر واقع ہے، جسے “اللہ بند میجر فالٹ” کہا جاتا ہے۔ یہ فالٹ لائن گلستانِ جوہر، گلشنِ اقبال، صدر، لانڈھی، قائدآباد، ملیر، اور اسٹیل مل جیسے گنجان آباد علاقوں کے نیچے سے گزرتی ہے۔ اگر اس فالٹ پر کوئی بڑا زلزلہ آیا تو اس
کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں شہر کا بیشتر تعمیر شدہ علاقہ زمین بوس یا زیرِ آب آ سکتا ہے۔
کیا کراچی میں سونامی کا خطرہ موجود ہے؟
ایک اہم سائنسی سیمولیشن اسٹڈی کے مطابق، اگر کراچی کے قریب موجود ٹیکٹونک پلیٹس میں بڑی سرگرمی پیدا ہوئی تو وہاں سونامی جنم لے سکتی ہے، جو صرف 20 منٹ میں کراچی کو بہا سکتی ہے۔ اس تناظر میں کراچی کے ساحلی علاقوں، بندرگاہوں اور ندی نالوں کو مضبوط دفاعی نظام کی ضرورت ہے — جو بدقسمتی سے تاحال مکمل طور پر موجود نہیں۔
سمندری زمین کی ری کلیمیشن
مسعود لوہار کا کہنا ہے کہ کراچی میں زمین کو سمندر سے ری کلیم کر کے عمارتیں بنائی جا رہی ہیں، جس سے ٹیکٹونک دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ عمل فالٹ لائنز کو مزید متحرک کر رہا ہے۔ کراچی، دبئی یا قطر نہیں ہے، جہاں قدرتی پانی کے دباؤ کی کمی ہو؛ یہاں ٹائڈل پریشر (سمندری لہروں کا دباؤ) بہت زیادہ ہے، جو زمین کی اندرونی ساخت کو غیر مستحکم کر رہا ہے۔
دریاؤں کی بندش
مسعود لوہار نے دریاؤں کی بندش کو بھی زلزلوں کی ایک بڑی وجہ قرار دیا۔ کراچی کے دو بڑے دریا — لیاری اور ملیر — جن کے ڈیلٹا قدرتی طور پر شہر کو سمندر کے حملوں سے بچاتے تھے، اب عمارتوں، سڑکوں اور قبضوں کی نذر ہو چکے ہیں۔ پانی کے قدرتی بہاؤ کو روک دینے سے سمندر کا کھارا پانی براہ راست شہر میں داخل ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی کے لیے بھی خطرناک ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی کی زمین میں فالٹ لائن کے فعال ہونے کی بڑی وجوہات میں زمین پر قدرتی کریکس کی بندش، لگونز (قدرتی آبی ذخائر) کا خاتمہ، اور سمندری زمین سے کی گئی ری کلیمیشن شامل ہیں۔ شہری منصوبہ سازوں اور فیصلہ سازوں کو سوچنا ہوگا کہ کیا قدرتی ماحول سے چھیڑ چھاڑ کر کے ترقی ممکن ہے، یا ایک سنجیدہ، سائنسی، اور پائیدار حکمتِ عملی کے ذریعے شہر کے مستقبل کو محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔