کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری سے تعلق رکھنے والے ایک ہی خاندان کے 11 پاکستانی ماہی گیر روزگار کی تلاش میں مچھلی کے شکار کے لیے گہرے سمندر میں گئے، مگر آج وہ بھارت کی جیلوں میں قید ہیں۔ ان ماہی گیروں کو مبینہ طور پر سمندری حدود کی خلاف ورزی پر بھارتی کوسٹ گارڈ نے کشتی سمیت گرفتار کر لیا۔
ترجمان کوسٹل میڈیا سینٹر کے مطابق یہ گرفتاری کاجر کریک کے قریب عمل میں آئی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ماہی گیروں کے گھروں میں کہرام مچ گیا اور اہلِ خانہ غم اور بے بسی کی تصویر بن گئے۔ مقامی افراد کے مطابق ابراہیم حیدری جیسے ساحلی علاقوں میں ماہی گیری ہی اکثریت کا واحد ذریعۂ معاش ہے۔
گرفتار ماہی گیروں میں 52 سالہ ابراہیم، 31 سالہ غلام مصطفیٰ، 32 سالہ سرمیر بار، 35 سالہ سلطان، 51 سالہ سوما، 24 سالہ سرفراز، 25 سالہ مہتاب، 56 سالہ حسین، 15 سالہ حبیب، 12 سالہ ظہیر اور 71 سالہ بزرگ شفیع شامل ہیں۔ ایک ہی خاندان کے اتنے افراد
کی گرفتاری نے علاقے میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
71 سالہ شفیع کے اہلِ خانہ نے ٹائمز آف کراچی کو بتایا کہ خاندان کے نوجوان میٹرک اور انٹر تک تعلیم یافتہ ہیں، مگر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے باعث سمندر ہی ان کی مجبوری بن چکا ہے۔ شفیع کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ سمندر میں سرحدوں کا واضح اندازہ نہیں
ہوتا اور ماضی میں پاکستانی حکام نے بھی بھارتی ماہی گیروں کو حراست میں لیا ہے، جن کے گھر والے بھی اسی اذیت سے گزرتے ہوں گے۔
انہوں نے حکومتِ پاکستان سے اپیل کی کہ گرفتار بھارتی ماہی گیروں کے ساتھ انسانی بنیادوں پر نرمی کی جائے تاکہ اس کے بدلے پاکستانی ماہی گیروں کی رہائی ممکن ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ سمندر ہی گھر کا چولہا جلانے کا واحد سہارا ہے، اگر ماہی گیری بند ہو جائے تو خاندان فاقوں پر آ سکتا ہے۔
شفیع کے بیٹے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت میں ان کے بزرگ والد اور دیگر ماہی گیروں کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہوگا، اس کا انہیں کوئی علم نہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی ماہی گیروں کے تحفظ کے لیے پاکستان کوسٹ گارڈ کو سمندر میں گشت مؤثر اور منظم بنانا چاہیے تاکہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
کوسٹل میڈیا سینٹر کے ترجمان کمال شاہ نے کہا کہ جب تک ماہی گیروں کے مسائل کے لیے اجتماعی اور مضبوط آواز نہیں اٹھائی جاتی، حکومتی سطح پر سنجیدگی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے پاک فوج، پاک بحریہ اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ اس مسئلے کو انسانی اور قومی معاملہ سمجھتے ہوئے فوری توجہ دی جائے اور گرفتار ماہی گیروں کی رہائی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔