یوں تو کراچی میں پانی کی قلت ہے مگر پھر بھی تپتی گرمی سے بے حال جس کو بھی موقع ملتا ہے اسکی کوشش ہوتی ہے شاور کے نیچے تھوڑی دیر کھڑے ہوکر فریش ہوجائیں لیکن گرمیوں میں اکثر اوقات ہمیں شاور کے نیچے سے الٹے پاوں پیچھے ہٹنا پڑتا ہے کیونکہ اس سے نکلنے والا گرم پانی بجائے ہمیں فرحت پہنچانے کے الٹا جھلسا کررکھ دیتا ہے۔
یقینا آپ کے ساتھ بھی کئی بار ایسا ہوا ہو گا مگر کبھی سوچا کہ اسکا حل کیا ہے؟ تو آج ہم جانیں گے کہ چھتوں پر رکھی ٹینکی کے پانی کو گرمیوں میں نارمل بلکہ قدرے ٹھنڈا رکھنے کے سادہ اور گھریلو طریقے کیا ہیں یہ طریقے سستے بھی ہیں اور ماحول دوست بھی ہیں۔
پانی کو ٹھنڈا رکھنے کا ایک موثر طریقہ جوٹ کے تھیلوں کا استعمال ہے، اگر ٹینکی کے گرد جوٹ کے تھیلے مضبوطی سے لپیٹ دیے جائیں اور دن میں ایک یا دو بار ان پر پانی چھڑک دیا جائے، تو یہ نمی جذب کر کے قدرتی ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں، یہ طریقہ پانی کو دوپہر میں بھی نسبتا ٹھنڈا رکھتا ہے۔
اس کے علاوہ ٹینکی کو سفید رنگ کرنا اور اس پر تھرموکول یا ایلومینیم فوائل کی شیٹس لگانا بھی ایک بہترین حل ہے، ٹینک کے اوپر تھرموکول یا انسولیشن شیٹس لگانے سے گرمی اندر نہیں پہنچتی اور پانی ٹھنڈا رہتا ہے۔
قدرتی سایہ فراہم کرنا بھی پانی کو گرم ہونے سے روکنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے، ٹینکی کے اوپر بانس کی چٹائی کا سایہ یا گرین نیٹ کی دو سے تین تہیں لگا کر سورج کی براہ راست روشنی کو روکا جا سکتا ہے، جالی کی دو یا تین تہیں ٹینکی کے اوپر مضبوطی سے باندنے سے بھی سورج کی کرنیں پانی تک نہیں پہنچ پاتیں اور پانی کے درجہ حرارت نمایاں طور پر کم ہو جاتا ہے، اور اگر ان جالیوں پر کسی پھول کی بیل لگا دی جائیں تو ٹھنڈک کا اثر مزید بڑھ جاتا ہے۔
ایک روایتی اور پائیدار طریقہ ٹینکی کے گرد اینٹوں کی ایک چھوٹی دیوار بنا کر درمیان میں ریت بھرنا ہے، جو ایک بہترین انسولیٹر کا کام کرتی ہے، ٹینکی کے ارد گرد 4-5 انچ فاصلے پر دیوار بنائیں اور دیوار اور ٹینکی کے درمیان جگہ کو ریت سے بھردیں، ریت نمی جذب کر کے قدرتی انسولیشن فراہم کرتی ہے اس طرح پانی دوپہر میں بھی ٹھنڈا رہتا ہے۔ ان آسان ٹوٹکوں اور سادہ تدابیر کو اپنا کر تپتی گرمی میں بھی ٹھنڈے پانی کی سہولت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔