Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

آپریشن غضب للحق مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا: پاک افغان کشیدگی، حالات یہاں تک کیسے پہنچے؟

Photo: AFP
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں
ایران اور روس کی مذاکرات کی پیشکش
پاکستان کا افغان طالبان رجیم اور خوارج کے خلاف آپریشن غضب للحق جاری رکھنے کا فیصلہ

پاکستان اور افغانستان کے درمیان جمعرات اور جمعے کو ہونے والی سرحدی جھڑپوں اور دونوں ممالک کی جانب سے حملوں کے دعوؤں کے بعد صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے۔

پاکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ’بلا اشتعال‘ حملوں کے بعد پاکستان نے کابل، پکتیا اور قندھار میں افغان طالبان کے دفاعی اہداف کو نشانہ بنایا جس میں خوارج اور افغان طالبان رجیم کے 274 اہلکار ہلاک جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب افغان طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔

کشیدگی کا آغاز کیسے ہوا؟َ

21 اور 22 فروری کی درمیانی شب پاکستان نے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دولتِ اسلامیہ خراسان سے وابستہ شدت پسندوں کے سات ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان میں عسکری ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے انٹیلیجنس بیس فضائی حملوں میں تین صوبوں ننگر ہار، پکتیکا اور خوست میں موجود ٹی ٹی پی کے سات مراکز کو تباہ کیا گیا، جس میں 80 سے زائد شدت پسند مارے گئے ہیں۔

افغان طالبان نے اس حملے کو سرحدی حدود کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ افغان طالبان کی وزارت دفاع نے ننگرہار اور پکتیکا کے ’شہری علاقوں‘ میں پاکستان کی جانب سے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ ’مناسب وقت‘ پر ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔

افغان طالبان کی وزارتِ خارجہ نے کابل میں پاکستان کے سفیر کو طلب کر کے احتجاجی مراسلہ حوالے کیا تھا اور ان حملوں کو افغانستان کی علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا۔

جبکہ پاکستان میں تواتر کے ساتھ ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کے بعد پاکستانی حکام نے ایک بار پھر ان واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملنے کے دعوے کیے تھے۔ تاہم اب پاکستان اور افغانستان میں طالبان حکومت کی فورسز کے درمیان حالیہ جھڑپیں جمعرات کی رات کو شروع ہوئیں اور دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں میں تاحال کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

افغانستان کا موقف؟

جمعرات کی رات کو افغانستان میں طالبان کی حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر پاکستانی سکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان طالبان نے اسے چند روز قبل پاکستان کی جانب سے افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بمباری کا جواب قرار دیا۔

افغان وزارتِ دفاع نے بھی دعویٰ کیا کہ پکتیکا، پکتیا، خوست، ننگرہار، کنڑ اور نورستان کے قریب سرحد پر پاکستانی فوج کے ساتھ چار گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں 55 پاکستانی فوجی مارے گئے جن میں سے کچھ کی لاشوں کو افغانستان منتقل کر دیا گیا ہے۔

افغان وزارتِ دفاع نے یہ بھی کہا اس کارروائی میں پاکستانی فوج کے دو اڈے اور 19 چوکیوں کو تباہ کیا گیا جبکہ فوجی ٹرکوں سمیت بھاری فوجی سازو سامان بھی تحویل میں لیا گیا ہے۔ بیان میں تصدیق کی گئی ان کارروائیوں کے دوران افغان طالبان کے آٹھ اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ننگرہار کے پناہ گزین کیمپ پر پاکستان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں خواتین اور بچوں سمیت 33 افراد زخمی ہوئے۔

پاکستان کا موقف؟

دوسری جانب پاکستان نے افغان طالبان رجیم اور خوارج کے خلاف آپریشن غضب للحق شروع کرنے کا دعویٰ کیا۔ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ طالبان رجیم کی جانب سے پاک افغان بارڈر پر 15 سیکٹرز میں 53 مقامات پر فائرنگ کی گئی، تمام 53 مقامات پر حملوں کو پسپا کیا گیا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا آپریشن غضب للحق میں 274 طالبان رجیم کے اہلکار اور خوارج ہلاک، جبکہ 400 سے زائد زخمی ہوئے، طالبان رجیم کی 74 سے زائد پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں، 18 چوکیاں پاکستان کے قبضے میں ہیں جبکہ دشمن کے 115 ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ کی جاچکی ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کے مطابق آپریشن میں اب تک پاکستانی فوج کے 12 سپوت شہید، 27 زخمی اور ایک لاپتہ ہے۔ انہوں نے بتایا فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کے 22 ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں اہداف کو انتہائی درستگی سے نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ انداز میں صرف عسکری اہداف کو نشانہ بنایا، دہشتگردوں کی پناہ گاہیں اور اسلحہ ڈپو تباہ کیے گئے، ہماری فضائیہ نے کابل میں انفنٹری بریگیڈ ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق وزیراعظم کی ہدایت پر آپریشن غضب للحق جاری ہے، آپریشن غضب للحق اپنے مقاصد کی تکمیل تک جاری رہے گا۔

ایران اور روس کی مذاکرات کی پیشکش:

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات میں سہولتکاری کی پیشکش کر دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنے چاہئیں۔

عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات میں سہولت فراہم کرنے اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے ہر ممکن مدد دینے کو تیار ہے۔

دوسری جانب روس نے بھی مذاکرات کی پیشکش کی، روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے بند کریں اور موجودہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں۔

لاوروف نے مزید کہا کہ اگر دونوں ممالک کی درخواست ہو تو روس ثالثی کے عمل پر غور کرنے کے لیے تیار ہے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور باہمی اعتماد قائم ہو۔

اس سے قبل دونوں ممالک کے مابین اکتوبر میں بھی سرحدی جھڑپیں ہوئی تھیں، جس میں فریقین نے ایک دوسرے کو بھاری نقصان پہنچانے کے دعوے کیے۔ تاہم دوست ممالک کی ثالثی میں دوحہ اور پھر استنبول میں مذاکرات کے بعد دونوں فریق جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement