Karachi
Current weather
-º
Humidity-
Wind direction-

کراچی میں الیکٹرک بس کے 2 روٹس پر بس سروس بند کردی گئی

اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

سندھ حکومت کی جانب سے ایک سال قبل کراچی کے شہریوں کے لئے شروع کی جانے والی الیکٹرک بس سروس مکمل طور پر بند کر دیے جانے کا امکان ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق الیکٹرک بس سروس کے تین میں سے دو روٹس پر چلنے والی بسیں اچانک معطل کردی گئیں ، جس کی وجہ سے مسافروں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ صرف ایک روٹ ہے جس پراب بھی بس چل رہی ہے، تاہم اس پر بھی بسوں کی تعداد کم نظر آتی ہے۔

الیکٹرک بسوں کا آغاز جون 2023 میں سندھ حکومت کی جانب سے پیپلز بس سروسز کے منصوبے کے تحت کیا گیا تھا۔

کلاک ٹاور تک پہنچنے کے لیے جناح ایونیو کے قریب ٹینک چوک سے اس کا ایک روٹ شروع ہوتا ہے، جو ائرپورٹ، شارع فیصل، ایف ٹی سی بلڈنگ، کورنگی اور خیابان اتحاد کے راستے سے ہوتا ہوا گزرتا ہے۔

دوسرا روٹ ملیر کینٹ چیک پوسٹ سے شروع ہوتا ہے، جو صفورا چوک، موسمیات، کامران چورنگی، پرفیوم چوک، ملینیم، ڈالمیا اور آغا خان اسپتال سے گزرتے ہوئے ایم اے جناح روڈ پر جاتا ہے۔

بسوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے چارجنگ ڈاک کی ضرورت ہوتی ہے۔ بحریہ ٹاؤن اور ملیر کینٹ میں کل 40 بسوں کے لیے دو پاور اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں لیکن چارج اسٹیشن فعال نہ ہونے کی وجہ سے دو روٹس پر بسوں کی آمدورفت معطل ہوچکی ہے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Read More

سانگھڑ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کرلیا گیا ہے تیرہ جون کو سومار ولد یارو بھن نامی شخص کی ایک اونٹنی ضلع سانگھڑ میں واقع ایک کھیت سے گزری، جو مبینہ طور پر جعفر نامی ایک اور شخص کا تھا۔وڈیرے نے پہلے ملازمین کے ہمراہ اونٹنی پر تشدد کیا اور پھر کلہاڑی سے دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹ دیا تھا پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دو کلہاڑیاں برآمد کی گئی ہیں اور دو ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔عدالت نے تمام ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے وڈیرے کو کلین چٹ دے دی، ڈی ایس پی لون خان شر کا کہنا ہے کہ جہاں واقعہ ہوا وہ غلام رسول کی زمین نہیں ہے، یہ زمین دوسرے وڈیرے کی ہے، ہمیں غلام رسول کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا

Close Button
Advertisement