Karachi
Current weather
-º
Humidity-
Wind direction-

سی پیک کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان ’چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور‘ کا باضابطہ آغاز

اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پراسلام آباد میں چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا باضابطہ آغاز کر دیا گیا۔  افتتاحی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ، ترجمان دفتر خارجہ سجاد حیدر خان اور پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ سمیت دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔

تقریب کے دوران رہنماؤں نے چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے لوگو پر موجود گلوب پر مشترکہ طور پر ہاتھ رکھ کر منصوبے کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر پاکستانی اور چینی فنکاروں نے رنگا رنگ ثقافتی پرفارمنس بھی پیش کی، جسے شرکاء نے بھرپور سراہا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی ایک ایسا ورثہ ہے جسے موجودہ نسلیں آگے بڑھا رہی ہیں اور آنے والی نسلوں تک منتقل کر رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کے لیے باقاعدہ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق اس پلیٹ فارم کے ذریعے دونوں ممالک کے عوام کے خیالات، تصورات اور سوچ کو ایک دوسرے سے منسلک کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سی پیک دونوں ممالک کی معیشتوں کو جوڑتا ہے تو چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور ان کے ذہنوں اور سوچ کو قریب لانے میں کردار ادا کرے گا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ اس منصوبے کے چار بنیادی ستون ہیں، جن میں میڈیا اور فیکٹ چیک، کاروباری ادارے، تھنک ٹینکس، جبکہ ثقافت، سیاحت اور نوجوانوں کے شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں کے دوران عالمی حالات، اتحاد اور ممالک کے تعلقات میں تبدیلیاں آتی رہیں، تاہم پاکستان اور چین کی دوستی ہر دور میں برقرار رہی ہے۔

عطا اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے ڈیجیٹل پاکستان کے وژن کے تحت ملک میں ڈیجیٹل معیشت کے قیام پر کام جاری ہے اور 2030 کے وژن کے تحت 25 ارب کی معیشت کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قیادت میں ملک میں ڈیجیٹل تبدیلی کا

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات محض دوستی تک محدود نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک شراکت داری کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق سی پیک دونوں ممالک کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لا رہا ہے۔

ماؤ ننگ نے کہا کہ موجودہ دور میں دنیا کو فیک نیوز اور مس انفارمیشن کے چیلنجز کا سامنا ہے، ایسے میں چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور کا قیام اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح شاہراہِ قراقرم دشوار گزار راستوں پر تعمیر کی گئی، اسی طرح پاکستان اور چین ایک مشکل ڈیجیٹل شاہراہ کی تعمیر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔عمل جاری ہے۔

اس موقع پر پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام کو بہتر نتائج فراہم کرنے کے لیے پاک چین تعاون کو بامعنی بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین اپنے مثبت تجربات پاکستانی دوستوں کے ساتھ شیئر کرتا رہا ہے اور چائنا پاکستان انفارمیشن کوریڈور اس تعاون کو آگے بڑھانے کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ثابت ہوگا۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement