پاکستان بھر میں منکی پاکس کے کیسز تیزی سے رپورٹ ہونے لگے طبی ماہرین کے مطابق یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں بھی آ سکتی ہے اور انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتی ہے۔
بقرعید قریب ہے ایسے میں ایک ابہام یہ بھی ہے کہ کیا قربانی کے جانوروں سے بھی اس کا پھیلاو ممکن ہے تو جان لیں کہ بڑے جانوروں یعنی گائے بیل اور بکروں وغیرہ سے منکی پاکس نہیں پھیلتا ہے ، ڈاکٹرز کے مطابق آپ جب منڈی جائیں اور خریداری کے بعد جانوروں کی دیکھ بھال کریں تو آپکو منکی پاکس کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے مطابق صوبے میں اب تک ایم پاکس کے 122 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں ، 25 کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 9 افراد کی اموات بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر کیسز ضلع خیرپور سے رپورٹ ہوئے ہیں، جہاں 18 تصدیق شدہ کیسز سامنے آئے، اس کے علاوہ سکھر سے 3 اور کراچی سے 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔
چکن پاکس ہوا کے زریعے نہیں پھیلتا اس لئے اس کے وبائی شکل اختیار کرنے کے امکانات نہیں ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق منکی پاکس متاثرہ شخص سے جسمانی رابطے ، زخم چھونے ،متاثرہ شخص کے کپڑے، بستر یا تولیہ استعمال کرنے سے ،کھانسی یا چھینک کے ذریعے منتقل ہو سکتی ہے ، جبکہ اسکی علامات میں بخار ، سردی لگنا، جسم میں درد، کمزوری ،سر درد، گلے میں سوجن یا گلٹیاں کے علاوہ چہرے، ہاتھ، پاؤں سمیت جسم پر ۔۔۔۔ یا دانے بھی ہو سکتے ہیں۔
منکی پاکس سے محفوظ رہنے کے لئے متاثرہ فرد کو آئیسولیشن میں رکھیں ،اس سے قریبی رابطہ نہ رکھیں ۔ ہاتھ بار بار دھوئیں ، کسی کا تولیہ، کپڑے یا بستر استعمال نہ کریں۔ متاثرہ شخص کے قریب جاتے وقت ماسک استعمال کریں۔
صورتحال کے پیش نظرصوبے میں الرٹ جاری کر تے ہوئے بڑے اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈز اور رسپانس یونٹس فعال کر دیا گیا ہے، حکومت نے شہریوں سے احتیاط برتنے ، علامات ظاہر ہونے پر اسپتال سے رجوع کرنے اور نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال میں خصوصی احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔