Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

شوگر کو نارمل رکھنے کا طریقہ کار کیا ہے؟

What are the causes and treatments for high and low blood sugar
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔
خون میں شوگر کی مقدار کتنی ہونی چاہیے ؟
شوگر کو نارمل رکھنے کا طریقہ کار کیا ہے ؟
ہائی اور لو شوگر کی وجوہات، علامات اور علاج کیا ہے ؟

خون میں شکر کے لیول کا بہت زیادہ بڑھ جانا یا پھر اسکی مقدار میں بہت ذیادہ کمی آپ کی صحت کے لیے منفی اور بعض اوقات جان لیوا نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق رات بھر کے فاقے کے بعد خون میں شکر کی سطح 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم ہونا نارمل سمجھا جاتا ہے، جبکہ 126 ملی گرام سے زیادہ کی سطح ظاہر کرتی ہے کہ مریض پری ڈائیبیٹک ہے یا اسے ذیابیطس ہے، بلڈ شوگر کا متوازن رہنا ہمیں ہے یا اسے ذیابیطس ہے، بلڈ شوگر کا متوازن رہنا ہمیں ذیابیطس ، دل کے امراض اور فالج سے محفوظ رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق چینی آپ کی بلڈ شوگر کو قلیل مدت میں متاثر کرتی ہے جبکہ کیلوریز وقت کے ساتھ ساتھ آپ کی میٹابولک صحت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ اس لئے اپنی صحت کی بہترین حفاظت کے لیے اس بات پر دھیان دینا چاہیے کہ وہ کیا کھا رہے ہیں اور کب کھا رہے ہیں۔

یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق ہائی بلڈ شوگر کی وجہ معمول سے زیادہ کھانا، انسولین کی ناکافی مقدار، ذہنی دباؤ یا شدید بیماری ہو سکتی ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو یہ گردوں کی بیماری، دل کے امراض اور اعصابی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کی علامات میں دھندلا نظر آنا، بار بار پیشاب آنا، پیاس لگنا، سر درد اور تھکاوٹ محسوس ہونا شامل ہو سکتی ہے۔

اس سے محفوظ رہنے کے لئے سوڈا، کیک، میٹھے اناج اور سفید ڈبل روٹی سے پرہیز کریں۔شکر قندی، جو اور لوبیا کا استعمال بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ جبکہ لو بلڈ شوگر کی وجہ کھانا چھوڑنا، معمول سے زیادہ جسمانی سرگرمی، شراب نوشی اور انسولین یا ذیابیطس کی دیگر ادویات کی زیادہ مقدار لینا ہو سکتی ہے۔

شوگرکی کمی سے کپکپاہٹ، پسینہ آنا، چکر آنا، بھوک اور الجھن ہو سکتی ہے۔بلڈ شوگر کی سطح بڑھانے کے لیے فوری اثر کرنے والے کاربوہائیڈریٹس کھائیں اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صرف غذا ہی نہیں نیند کی کمی ، پانی کی کمی ہو اور کیفین کا استعمال بھی بلڈ شوگر کو متاثر کر سکتا ہے۔

صبح سویرے ہارمونز کا اخراج بلڈ شوگر میں تیزی کا باعث بن سکتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق چہل قدمی اور باقاعدگی سے ورزش بلڈ شوگر کو حد میں رکھنے اور اسے کنٹرول کر نے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement