ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں پونے 200 فیصد اضافے کے باوجود سندھ ارکان اسمبلی کو ماہانہ تنخواہ اور مراعات فراہم کرنے میں 7 پارلیمانی اداروں میں سے چھٹے نمبر پر ہے، سب سے زیادہ تنخواہ اور مراعات قومی اسمبلی، سینیٹ آف پاکستان اور گلگت بلتستان کونسل کے ارکان کی ہیں۔
ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ آف پاکستان اور گلگت بلتستان کونسل کے ممبران ماہانہ تنخواہ اور مراعات میں یکساں پوزیشن پر ہیں۔ جن کو 6 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور 1 لاکھ 30 ہزار روپے الاؤنسز ملتے ہیں اور انکا مجموعی پیکج 7 لاکھ 30 ہزار روپے بنتا ہے۔ علاج سرکاری جبکہ رہائش اور ٹرانسپورٹ ذاتی انتظام پر ہیں۔
صوبائی سطح پنجاب اسمبلی ملک کی سب سے بڑی صوبائی اسمبلی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے ارکان کو 4 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ اور 1 لاکھ روپے الاؤنسز کی مد میں کل 5 لاکھ روپے ماہانہ ملتے ہیں۔
گلگت بلتستان اسمبلی کے ارکان کی بنیادی تنخواہ اگرچہ کم ہے (1 لاکھ 40 ہزار روپے) مگر الاؤنسز غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں (3 لاکھ 25 ہزار روپے)، جس سے کل مراعات 4 لاکھ 65 ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہیں۔

بلوچستان اسمبلی کے ارکان کو 3 لاکھ روپے تنخواہ اور 1 لاکھ 40 ہزار روپے الاؤنسز ملتے ہیں۔ یوں کل ماہانہ پیکج 4 لاکھ 40 ہزار روپے ہے۔
سندھ اسمبلی کی پارلیمانی کمیٹی نے حالیہ دنوں میں ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں ڈیڑھ لاکھ روپے سے بڑھا کر 4 لاکھ 30 ہزار روپے ماہانہ کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس اضافے کے بعد مجموعی طور پر 177.41 فیصد ریکارڈ اضافہ ہوا، تاہم اس نمایاں اضافے کے باوجود سندھ اسمبلی کے ارکان ملک کے دیگر پارلیمانی اداروں کے مقابلے میں ماہانہ تنخواہ اور مراعات کے اعتبار سے چھٹے نمبر پر ہیں۔
مزید پڑھیں:ارکان سندھ اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں پونے 200 فیصد اضافہ منظور
خیبرپختونخوا اسمبلی کے ارکان سب سے کم مراعات یافتہ ہیں۔ انہیں 80 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ اور 89 ہزار روپے الاؤنسز ملتے ہیں، جس کے بعد کل ماہانہ مراعات صرف 1 لاکھ 69 ہزار روپے بنتی ہیں۔
رپورٹ سے منسلک چارٹ میں صرف ماہانہ تنخواہ اور مراعات کو شامل کیا گیا ہے، مدت میں ایک بار اور سالانہ مراعات و اجلاس کے دوران اور دیگر الائونسز اس میں شامل نہیں ہیں۔