رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ مختلف مدارس اور اکابر علماء کرام نے فطرانہ، فدیہ اور روزے کے کفارے کے حوالے نصاب جاری کردیا ہے۔ جامعہ بنوری ٹائون کے فتوے کے مطابق جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکوۃ واجب ہے یا اس پر زکوۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب اور استعمال کی اشیاء سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں عید الفطر کی صبح صادق کے وقت موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔
جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ان کی اجازت سے ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔
صدقہ فطر کا مصرف وہی ہے جو زکوٰۃ کا مصرف ہے، اور صدقہ فطر اور زکاۃ کے مستحق وہ افراد ہیں جو نہ بنی ہاشم (سید وں یا عباسیوں وغیرہ) میں سے ہوں اور نہ ہی ان کے پاس ضرورت و استعمال سے زائد اتنا مال یا سامان موجود ہو جس کی مالیت نصاب (ساڑھے سات تولہ سونا، یاساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی موجودہ قیمت) تک پہنچے۔ ایسے افراد کو زکات اور صدقہ فطر دیاجاسکتا ہے۔ جو شخص زکوٰۃ کا مستحق ہو اس پر صدقہ فطر واجب ہی نہیں ہے، لہٰذا ایسے شخص کو صدقہ فطر دینا جائز ہے۔ اور جس شخص پر صدقہ فطر واجب ہو وہ زکاۃ کا مستحق نہیں ہے۔
رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ مختلف دینی اداروں اور علماء اکرام نے فطرانہ، فدیہ اور روزے کے کفارے کی مالیاتی حد مقرر کرلی ہے۔ جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹائون کے نصاب میں 14 فروری 2026ء کی قیمتوں کے مطابق فطرانہ فی فرد گندم میں پونے 2 کلو (احتیاطاً 2 کلو) قیمت 280 روپے، جو ساڑھے 3 کلو قیمت 1020 روپے، کھجور ساڑھے 3 کلو قیمت 1870 روپے اور کشمش ساڑھے 3 کلو 4200 روپے مقرر ہے۔ ہر شخص ان چاروں اشیاء میں اپنی استطاعت فطرانہ ادا کرسکتے ہیں۔
جو افراد شرعی عذر کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ سکتے ہیں اور امکان بھی نہ ہو، وہ فدیہ ادا کریں، یعنی روزانہ ایک مسکین کو کھانہ کھلائے جو عموماً ایک فطرانہ کے مقدار ہوتا ہے ، شرعی عذر ختم ہونے پر روزے کی قضا بھی لازم ہے اور بغیر شرعی عذر روزہ توڑنے پر 60 مسکین کھانہ کھلانا ہے، عموماً 60 فطرانہ کے مقدار بنتی اور روزے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا اور اس کے ساتھ روزہ بھی رکھنا ہے۔ فطرہ، فدیہ اور کفارے کی رقم لوگ اپنی استطاعت کے مطابق چاروں اشیاء کے حساب سے ادا کریں گے۔ علماء کرام کے مطابق فطرانہ عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے، تاہم رمضان میں کسی بھی وقت ادا کیا جا سکتا ہے۔