تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا واضح شواہد اور ثبوتوں کے باوجود بدترین توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مقدسات میں ملوث 5افراد کو بری کر دینا قابلِ مذمت ہے۔
اپنے ایک بیان میں امیرشجاع الدین شیخ نے کہا کہ ہر شعبہ سے متعلق مسلمانانِ پاکستان کا فرض ہے کہ وہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مقدسات پر پہرہ دیں، تنظیم اسلامی ملک بھر میں منعقدہ حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مقدسات مشاورتی اجلاسوں کی تائید کرتی ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر بدترین توہین رسالتﷺ، قرآن و مقدسات کے مرتکب افراد اور اُن کے پشتی بانوں کو روکنا اور جرم ثابت ہونے پر مجرموں کو قرار واقع سزا دینا ہمارے ایمان کا حصّہ ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ حال ہی میں لاہور ہائی کورٹ نے توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مقدسات میں ملوث 5 افراد کو جرم کے واضح ثبوت ہونے کے باوجود بری کر دیا، جس کے خلاف عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، تنظیم اسلامی بھی مختلف پلیٹ فارمز پر اپنی استعداد کے مطابق اِس فیصلہ کی مذمت اور حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مقدسات کی حفاظت کے لیے اپنا حصّہ ڈال رہی ہے۔
مزید پڑھیں:وی پی این غیرشرعی نہیں اس کا غلط استعمال غیر شرعی ہے،چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل
امیرتنظیم نے کہا کہ ہمارے نزدیک اِس بدترین توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، توہین قرآن و دیگر دینی مقدسات کے ساتھ ساتھ ملک میں رائج سودی معیشت اور معاشرتی و خاندانی نظام کو تہ و بالا کرنے کی سازشوں کے سدِباب کے لیے بھی علماء کرام، مشائخ اور دینی جماعتیں متحد ہو کر لائحہ عمل ترتیب دیں۔اس حوالے سے آپ پُرامن، منظم اور غیر مسلح تحریک کے راستے کو اختیار کیاجانا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا جب تک اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جاری جنگ کو ختم نہیں کیا جاتا اور معاشرہ میں بڑھتی ہوئی فحاشی و بے راہ روی کے خاتمہ کے لیے عملی اقدامات نہیں لیے جاتے، اُس وقت تک اِس فرسودہ نظام سے زہریلے پھل ہی برآمد ہوں گے۔ لہٰذا ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مقدسات کے مرتکب 5 افراد کو بری کرنے کے فیصلہ کو فی الفور واپس لیا جائے۔
تنظیم اسلامی کے امیر نے مزید کہا ضرورت اِس امر کی ہے کہ مسلمانانِ پاکستان متحد ہو کر ملک کو صحیح معنوں میں عدلِ اجتماعی پر مبنی ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کی خود بھی جدوجہد کریں اور حکومت و ریاستی اداروں سے پُرزور مطالبہ کریں۔ جب ملک میں شریعتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نفاذ ہوگا تو ہم دنیا و آخرت میں کامیابی کے امیدوار بن جائیں گے۔