آئی ایم ایف کی حالیہ رپورٹ نے پاکستانی اشرافیہ کی کرپشن اور اقرباء پروری کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ پاکستان کی انتہائی دگرگوں معاشی حالت کے باوجود اشرافیہ کے اللّے تللّے جاری ہیں۔ جب تک پاکستان سودی قرضوں کی جکڑ بندی اور کرپشن سے آزاد نہیں ہوتا، معیشت کی بہتری کا کوئی امکان نہیں۔اِن خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کے بارے میں اگر یہ کہا جائے کہ ’اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی‘ تو ہرگز غلط نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ 78 برس کے دوران جاگیرداروں، سیاست دانوں، عدلیہ، بیوروکریسی اور دیگر مقتدر حلقوں نے عوام کا خون چوس کر ملک میں اور بیرونِ ملک بڑی بڑی جاگیریں کھڑی کر لی ہیں۔
شجاح الدین شیخ کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کے تقریباً تمام اشاریے ہر آنے والی حکومت کے دور میں بُری طرح متاثر ہوتے رہے ہیں اور آج صورتِ حال یہ ہے کہ ملکی معیشت پاتال سے جا لگی ہے۔ احتساب اور مسابقتی نگرانی کرنے والے ادارے اپنا اصل کردار ادا کرنے کی بجائے اشرافیہ کی بی ٹیم بن چکے ہیں، جنہیں سیاسی انتقام اور عوام کی زندگیوں کو مزید دُوبھر بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ حکومت اور ریاستیں اداروں کے کسی اقدام میں بھی شفافیت نہیں تو غلط نہ ہوگا۔
امیر تنظیم اسلامی نے کہا کہ ملکی معیشت کی ناگفتہ بہ حالت اور غربت و مہنگائی کے باعث عوام کے مسلسل پِسے جانے کی تصویر اِس قدر واضح ہے کہ اُسے جاننے کے لیے کس رپورٹ کی ضرورت نہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مملکتِ خداداد کا اصل معاشی مسئلہ سودی قرض ہے جو دسمبر 2025ء میں 80 کھرب روپے سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ ا
ُنہوں نے کہا کہ اگر حکومت، مقتدر حلقے، عدلیہ، علماء کرام، دینی جماعتیں اور عوام الناس مقدور بھر ملک سے سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لیے جدوجہد نہیں کرتے تو اللہ تعالیٰ کے سخت غضب اور قہر نازل ہونے کا خدشہ ہے۔ لہٰذا اللہ اور اُس کے رسول ﷺ سے جاری اِس جنگ کو فی الفور بند کیا جائے۔