سندھ میں سیلابی صورتحال کے پیش نظر پراونشل رین اینڈ فلڈ ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل قائم کردیا دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے سندھ سیکریٹریٹ میں سیلاب کی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کرنے کے لئے قائم ایمرجنسی سیل کے دورے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کابینہ کے ارکان، ایم پی ایز اور ضلعی انتظامیہ سمیت پوری مشینری فیلڈ میں موجود ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ سیلابی صورتحال کی نگرانی کے لیے صوبائی بارش و سیلاب ایمرجنسی مانیٹرنگ سیل قائم کردیا گیا ہے، جو 24 گھنٹے فعال رہے گا، اس سیل میں حکومت سندھ کے ترجمان مصطفیٰ بلوچ، واحد ہالیپوتہ اور تحسین عابدی سمیت دیگر حکام موجود رہیں گے۔ میڈیا نمائندگان کسی بھی وقت کنٹرول روم سے براہِ راست معلومات حاصل کرسکیں گے جبکہ ہر تین گھنٹے بعد باقاعدہ ہینڈ آؤٹ بھی جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ کے کسی بھی علاقے میں سیلاب سے متعلق مسائل کا سامنا کرنے والے لوگ درج ذیل نمبروں پر رابطہ کر سکتے ہیں:
021-99222967
021-99222758
021-99222902
021-99222759
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ممکنہ طور پر 16 لاکھ 50 ہزار افراد، 1651 دیہات اور 167 یونین کونسلز متاثر ہوسکتی ہیں جبکہ دو لاکھ 73 ہزار خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اس وقت 192 ریسکیو کشتیاں اور موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کردی گئی ہیں۔
سینئر وزیر کے مطابق، سیلاب کی صورتحال کو چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سندھ خود مانیٹر کر رہے ہیں، ضلعی انتظامیہ مسلسل رابطے میں ہے اور ممکنہ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے، زیادہ تر افراد حسبِ روایت کچے کے علاقوں سے خود ہی نکل جاتے ہیں۔
مزید پڑھیں:کراچی میں حالیہ بارشوں سے کتنا نقصان ہوا؟
شرجیل انعام میمن نے بتایا کہ ریلیف کیمپس قائم ہیں تاہم زیادہ تر لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس جانے کو ترجیح دیتے ہیں، جانوروں کے لیے بھی 300 کیمپس قائم کیے گئے ہیں، صوبائی حکومت ہر تین گھنٹے بعد صورتحال کے حوالے سے اپڈیٹ فراہم کرتی ہے جبکہ پنجاب حکومت بھی سیلابی صورتحال میں تعاون کے طور پر کٹس فراہم کر رہی ہے۔ پانی کی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبے میں نہ پیسوں کی کمی ہے اور نہ ہی اس وقت کوئی ایمرجنسی صورتحال ہے، تاہم حکومت ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے اور درست معلومات کے لیے براہ راست کنٹرول روم سے رابطہ کیا جائے۔