سندھ ہائی کورٹ نے فلم پروڈیوسر، رائٹر و ڈائریکٹر جمشید محمود عرف جامی کی سزا کے خلاف دائر کی گئی درخواست ضمانت منظور کر لی۔
سندھ ہائی کورٹ میں جمشید محمود عرف جامی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو 50 ہزار روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ضمانت منظور کر لی۔
جمشید محمود کے وکیل نے اپیل میں موقف اختیار کیا کہ جمشید محمود عرف جامی کو جس جرم میں سزائے سنائی گئی ہے وہ قابل ضمانت ہیں، ماتحت عدالت نے جمشید محمود عرف جامی کو سنائی گئی سزا میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے، جمشید محمود عرف جامی پر لگائے گئے الزامات غلط اور بے بنیاد ہیں، ماتحت عدالت کی جانب سے سنائی گئی سزا کالعدم قرار دی جائے۔
مزید پڑھیں:فلمساز جمشید محمود کو 2 سال قید کی سزا، گرفتار کرلیا گیا
سندھ ہائی کورٹ نے جمشید محمود عرف جامی کو ماتحت عدالت کی جانب سے دی گئی سزا معطل کردی۔ درخواست گزار کے وکیل، حافظ محمد یحییٰ ایڈووکیٹ کے مطابق جمشید محمود عرف جامی کو آج جیل سے رہا کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روزایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی نے ڈائریکٹ کمپلین پر جرم ثابت ہونے پر جمشید محمود عرف جامی کو دو سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ جمشید محمود عرف جامی کے خلاف فلم،میوزک ڈائریکٹر سہیل جاوید نے ڈائریکٹ کمپلین دائر کی تھی۔