Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

اورنگی ٹاؤن میں سینما کی اراضی پر مال کی تعمیر، عدالت نے جواب طلب کرلیا

اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں میٹرو سینما مسمار کرکے شاپنگ مال بنائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ معاملہ عدالت پہنچنے پر سندھ بلڈنگ اینڈ کنٹرول اتھارٹی کو نوٹس جاری کردئے گئے۔

 

اورنگی ٹاؤن میٹرو سینما پلاٹ کی اراضی پر صدف مال تعمیر کرنے کا معاملہ عدالت پہنچ گیا۔ درخواست گزار کے وکیل عظمی رفیق ایڈوکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ سینما گرا کر مال کی تعمیر کی گئی ہے۔

 

سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے درخواست گزار کے وکیل سے سوال کیا کہ درخواست گزار خود کیا کام کرتا ہے ؟ درخواست گزار خود نارتھ ناظم آباد میں رہتا ہے اور اورنگی ٹاؤن کے معاملہ کی نشاندہی کررہا ہے۔

 

درخواست گزار کے وکیل عظمی رفیق ایڈوکیٹ نے عدالت سے کہا کہ یہ مفاد عامہ کا معاملہ ہے کوئی بھی شہری آسکتا ہے۔ عدالت سیکٹر تھری اورنگی ٹاؤن میں غیرقانونی تعمیرات روکنے کا حکم دے۔

عدالت نے ڈی جی ایس بی سی اے ، ایڈوکیٹ جنرل سندھ کو نوٹس جاری کردئے اور فریقین سے چار ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

 

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ نوٹس کے ساتھ حکم امتناعی بھی جاری کیا جائے جس پر عدالت کا کہنا تھاکہ پہلے جواب آنے دیں پھر کاروائی کا حکم دیں گے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Read More

سانگھڑ میں اونٹ کی ٹانگ کاٹنے کے الزام میں گرفتار چھ ملزمان کو گزشتہ روز عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں تفتیشی افسر نے بتایا کہ دو ملزمان کی جانب سے اعتراف جرم کرلیا گیا ہے تیرہ جون کو سومار ولد یارو بھن نامی شخص کی ایک اونٹنی ضلع سانگھڑ میں واقع ایک کھیت سے گزری، جو مبینہ طور پر جعفر نامی ایک اور شخص کا تھا۔وڈیرے نے پہلے ملازمین کے ہمراہ اونٹنی پر تشدد کیا اور پھر کلہاڑی سے دائیں ٹانگ کا نچلا حصہ کاٹ دیا تھا پیشی کے دوران تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے دو کلہاڑیاں برآمد کی گئی ہیں اور دو ملزمان نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا ہے۔عدالت نے تمام ملزمان کا مزید دو روزہ جسمانی ریمانڈ دے دیا ہے۔ دوسری جانب پولیس کی جانب سے وڈیرے کو کلین چٹ دے دی، ڈی ایس پی لون خان شر کا کہنا ہے کہ جہاں واقعہ ہوا وہ غلام رسول کی زمین نہیں ہے، یہ زمین دوسرے وڈیرے کی ہے، ہمیں غلام رسول کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا

Close Button
Advertisement