پاکستان میں پہلی بار شہری مسائل کو مضوع بحث بناتے ہوئے کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی (CAC) کے زیرِ اہتمام کلائمیٹ ویک کا آغاز ہوگیا ہے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر سی اے سی یاسر حسین کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کی وزارت سندھ ماحولیاتی تحفظ ایکٹ پر نظرِ ثانی کر رہی ہے۔ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ کی بہتری کے لیے مشاورت کا عمل جاری ہے، ماحولیاتی قوانین پر سفارشات کے لیے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سفارشات کی تیاری کے لیے کلائمٹ ایکشن سینٹر سے رجوع کیا گیا ہے ۔کلائمیٹ ایکشن سینٹر کے لا یونٹ کی جانب سے قانونی سفارشات کی تیاری کی جارہی ہے ۔ماحولیاتی تحفظ کے قانون میں اصلاحات کے لیے اہم پیش رفت ہورہی ہیں ۔سندھ میں ماحولیاتی قوانین کو مؤثر بنانے کی کوششیں تیز ہونی چاہیے۔
تقریب میں فیکلٹی ممبر آئی بی اے اورصحافی شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ پاکستان جیسے ملک میں لوگوں کو یکجا کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔تمام تر مشکلات کے باوجود کلائمٹ چینج موومنٹ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔کوششوں کا نتیجہ ہے کہ آج مختلف طبقات ایک جگہ موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی حقوق کے لیے جدوجہد کرنے والی آوازیں ایک پلیٹ فارم پر موجود ہیں ،طلبہ کی بھرپور شرکت نے پروگرام کو مزید مؤثر بنا دیا ہے۔ شاہ زیب جیلانی کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی تبدیلی کوئی موجودہ دور کا مسئلہ نہیں بلکہ ماحولیاتی جدوجہد ہماری بقا سے جڑاہوا سوال ہے۔
کلائمیٹ ایکشن سینٹرکراچی (CAC) کے تحت کلائمیٹ ویک کے افتتاحی سیشن سے خطاب میں ڈائریکٹر جنرل سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی وقار پہلپوٹو کا کہنا تھا کہ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کا قیام 1989 میں عمل میں آیا، پاکستان بھر میں ای پی ایز کا قیام 1987 کے بعد مرحلہ وار ہوا، ابتدا میں ای پی اے پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ 1997 کے تحت کام کرتی رہی،18ویں آئینی ترمیم 2010 کے بعد صوبوں کو اپنے ماحولیاتی قوانین بنانے کی ذمہ داری ملی۔
وقار پہلپوٹو نے کہا کہ سندھ ان صوبوں میں شامل ہے جس نے قانون میں محض نام کی تبدیلی نہیں کی ۔سندھ نے ماحولیاتی ایکٹ میں نئی شقیں، دفعات اور تعریفیں شامل کیں۔ وقار پہلپوٹو کا کہنا تھا کہ تھا وقت کے تقاضوں کے مطابق سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایکٹ میں مزید ترامیم کی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:پاکستان کے پہلے شہر گیر کلائمیٹ ویک کے انعقاد کا اعلان
کلائمیٹ ویک میں سیشن سے خطاب میں سماجی رہنما فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ماحولیاتی مسائل کے حل کے لئے سی ای سی کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے، فضائی، پانی اور لینڈ پولوشن پر فوری توجہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں آلودگی ہم نے خود پیدا کی، درست بھی ہمیں ہی کرنا ہوگا،ماحولیاتی تحفظ میں طلبہ کی شمولیت خوش آئند ہے، فیصل ایدھی کا مزید کہنا تھا کہ نصاب میں ماحولیاتی مضامین شامل کرنے کی ضرورت ہے۔سی اے سی کا پلیٹ فارم ماحولیاتی آگاہی کے لیے مؤثر ذریعہ ہے۔
واضح رہے کہ کراچی میں کلائمیٹ ایکشن سینٹر(CAC) کے تحت پاکستان کے پہلے کلائمیٹ ویک 2026 کا آغاز آج (29 جنوری) سے ہو گیا ہے۔ کلائمیٹ ویک 29 جنوری سے 4 فروری تک جاری رہے گا، جس میں 125 سے زائد ماہرین شرکت کریں گے۔