Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

پاکستان کے پہلے شہر گیر کلائمیٹ ویک کے انعقاد کا اعلان

Climate Week Karachi 2026
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

پاکستان میں پہلی بار شہری مسائل کو مضوع بحث بناتے ہوئے کلائمیٹ ایکشن سینٹر کراچی (CAC) کے زیرِ اہتمام کلائمیٹ ویک کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

کلائمیٹ ویک کراچی کا آغاز کب ہوگا؟

کلائمیٹ ویک کراچی (CWK) 29 جنوری سے 4 فروری تک کراچی میں منعقد ہوگا، “Tides of Tomorrow: City, Memory, Future,” کے عنوان سے منعقد ہونے والا یہ ویک دریائے سندھ کو مرکزی علامت اور فکری محور بناتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی، شہری بقا، توانائی کے بحران اور ماحولیاتی انصاف جیسے اہم موضوعات کو یکجا کر کے مکالمے کی صورت دے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹائی کنارے پر واقع کراچی، بالائی علاقوں میں پانی کے بے تحاشا استعمال، موسمیاتی تبدیلی، سمندری سطح میں اضافے، نمکین پانی کے پھیلاؤ اور ماحولیاتی بحران کے براہِ راست اثراتخطرات کاسامنا کر رہا ہے۔ شہر کو درپیش پانی کی قلت، ساحلی کٹاؤ، شدید گرمی کی لہریں، توانائی کا بحران اور صحتِ عامہ کے مسائل دراصل اسی بڑے ماحولیاتی بحران کے تناظر کا حصہ ہیں۔

اعلامیے کے مطابق کلائمیٹ ویک کراچی کے دوران فنکاروں، ماحولیاتی کارکنوں، سائنس دانوں، مورخین، پالیسی سازوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں، طلبہ اور سرکاری اداروں کے درمیان ایسا مکالمہ ہوگا، جس کا مقصد دریائے سندھ کی کہانی کے ذریعے کراچی کے ماحولیاتی مستقبل کو ازسرِ نو سمجھنا اور تشکیل دینا ہے، اس پلیٹ فارم پر سائنسی تحقیق کو ثقافتی اظہار اور زمینی حقائق سے جوڑا جائے گا۔

کلائمیٹ ویک کراچی 2026 پاکستان میں اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ماحولیاتی ایونٹ ہو گا، جس میں 125 سے زائد قومی و بین الاقوامی ماہرین اور مقررین،50 سے زائد سرکاری، تعلیمی، سول سوسائٹی اور نجی اداروں کی شراکت، شہر بھر میں 37 متنوع تقریبات، ماحولیاتی پالیسی، شہری لچک اور توانائی پر 19 پینل مباحثے شامل ہیں۔

کلائمیٹ ویک میں موسمیاتی موضوعات پر آرٹ نمائش، تھیٹر اور فلم اسکریننگز ماحولیاتی عمل اور پالیسی مکالمے کا حصہ ہوں گی۔

کلائمیٹ ویک کراچی سیشن شیڈول:

اعلامیے کے مطابق کلائمیٹ ویک میں سولرائزیشن کو کراچی جیسے بڑے شہر کے لیے ایک مؤثر حل کے طور پر پیش کیا جائے گا، جہاں شمسی توانائی سستی، مقامی اور غیرمرکزی بجلی کی فراہمی کا ذریعہ بن سکتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ برقی ٹرانسپورٹ، بشمول ای بائیکس، الیکٹرک رکشے اور الیکٹرک گاڑیاں، شہری آلودگی میں کمی اور صاف ہوا کے حصول کی عملی مثال کے طور پر زیرِ بحث آئیں گی۔

منتظمین کے مطابق توانائی کی منتقلی کو محض تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی اور ثقافتی تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو محنت کش طبقے، شہری صحت، فضائی معیار اور ماحولیاتی انصاف سے جڑی ہوئی ہے، اسی لیے کلائمیٹ ویک کراچی ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے کہ مستقبل کو روشن کرنے والی توانائی کس کی ہوگی اور اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟

 

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement