گل پلازہ کے کمپلیکس پلان، تعمیر اور ملکیت سے متعلق اہم انکشافات سامنے آ گئے ہیں۔ دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق گل پلازہ کی تعمیر، توسیع اور بعد ازاں ریگولرائزیشن کے مختلف مراحل میں خلاف ورزیاں کی گئیں، جن کا ریکارڈ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے پاس بھی موجود ہے۔
دستاویزات کے مطابق گل پلازہ پلاٹ کا کل رقبہ 8126 مربع گز ہے اور اصل عمارت 1980 کی دہائی میں تعمیر کی گئی۔ ایس بی سی اے کے ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ 21 ستمبر 1998 میں عمارت میں ایک اضافی منزل تعمیر کی گئی۔ اسی دوران پارکنگ ایریا میں دکانیں بنا دی گئیں جبکہ عمارت کی چھت کو پارکنگ میں تبدیل کر دیا گیا، جو منظور شدہ نقشے کے برعکس تھا۔ بعد ازاں 2003 میں اس اضافی منزل کو باقاعدہ طور پر ریگولرائز کر دیا گیا۔
ریکارڈ کے مطابق کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے 3 نومبر 1991ء کو گل پلازہ کی عمارت ایم ایس جینیکا پرائیویٹ لمیٹڈ کو لیز پر دی۔ پلاٹ نمبر 32، شیٹ نمبر پی آر ون کو 99 سالہ لیز پر دیا گیا۔ مزید دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 28 ستمبر 1991 کو اُس وقت کی شہری حکومت کے احکامات پر مذکورہ پلاٹ کو 99 سال کے لیے لیز پر دینے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ 24 اکتوبر 1991 کو بلدیہ عظمیٰ کراچی اور ایم ایس جینیکا کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا۔

ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ کے مالک گل محمد خانابی نے 14 اپریل 2003 کو عمارت کا کمپلیشن سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ منظور شدہ نئے نقشے کے تحت گل پلازہ میں بیسمنٹ، میز نائن اور تین منزلوں کی اجازت تھی جبکہ 1021 دکانوں کی تعمیر منظور شدہ تھی۔ تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق نقشے سے ہٹکر 1200 دکانیں تعمیر کی گئیں، یوں 179 دکانیں اضافی بنائی گئیں۔ دعویٰ ہے کہ راہداریوں اور راستوں پر بھی دکانیں قائم کی گئیں، جو حفاظتی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے مطابق کراچی کے علاقے صدر ٹاؤن میں 14 اپریل 2002ء کو پلاٹ کے مالک گل محمد خانانی کو تجارتی مقاصد کے لئے مجموعی طور پر 5 منزلہ عمارت کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا،۔ ریکارڈ کے مطابق پلاٹ میں ایک تہ خانہ، میز نائن اور 3 بالائی منزلوں میں دکانوں کی اجازت دی گئی اور واضح کیا گیا کہ اجازت کو تمام حصے پر صرف منظور شدہ بلڈنگ پلان کے مطابق استعمال کیا جائے۔ اس اجازت نامے میں مزید بتایا گیا ہے کہ اتھارٹی سے پہلے اجازت کے بغیر مزید تعمیر کی اجازت نہیں ہوگی۔

دستیاب ریکارڈ کے مطابق گل پلازہ سے متعلق تمام منظوریوں، نقشوں اور ملکیتی تفصیلات پر مشتمل مکمل فائل موجود ہے، جس نے عمارت کی تعمیر، اضافی توسیع اور قواعد کی خلاف ورزیوں سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دوسری جانب سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) بیان کے مطابق ایس بی سی اے کے پاس گل پلازہ سے متعلق تمام منظور شدہ ریکارڈ، نقشہ جات، کمپلیشس پلان اور تعمیراتی تفصیلات محفوظ اور دستیاب ہیں۔ گل پلازہ کی عمارت 1979ء کی دہائی میں تعمیر کی گئی جبکہ 1998ء (KBCA / kDA/ DCB-1/ Revised / 98-4/98/08 dated 21-9–1998) میں ریوائزڈ پلین منظور کروایا تھا ۔ بعد ازاں ریگلرائیزیشن امینڈمینٹ آرڈینینس 2001 کے تحت باقاعدہ قواعد و ضوابط کے تحت پراجیکٹ 2003 میں ریگولرائز کیا گیا تھا ۔

ریوائزڈ نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ فور سیل اینڈ ایڈورٹائز کا اجرا 2005 میں کیا گیا جس کے مطابق بیسمینٹ میں 175 , گراؤنڈ فلور پہ 355, فرسٹ فلور پہ 188,سیکنڈ فلور پہ 193 اور تیسری منزل پہ 191 دکانو کی منظوری دی گئی تھی جس کے تحت ٹوٹل دکانو کی تعداد 1102 بنتی ہے۔ بلڈنگ میں بیسمینٹ سے گراؤنڈ فلور تک جانے کے لیہ دو سیڑھیاں ، گراؤنڈ فلور سے پہلے منزل پہ جانے کے لیہ چھ سیڑھیاں ، دوسری منزل سے تیسری منزل پہ جانے کے لیہ پانچ سیڑھیاں اور بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر اخراج کہ لئے 16 راستے بلڈنگ پلان میں موجود ہیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بیان میں واضح کیا ہے کہ گل پلازہ سے متعلق تمام قانونی و تکنیکی ریکارڈ دستیاب ہے۔ ایس بی سی اے مکمل تعاون اور شفاف تحقیقات پر یقین رکھتی ہے اور ذمہ داری کے تعین کے لیے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے گی۔