نادرا نے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی نظام متعارف کردیا ہے۔
آپ یا گھر کے کسی بزرگ کی انگلیوں کے نشانات عمر میں اضافے یا طبی مسائل کے باعث مدھم ہو گئے ہیں اور آپکو موبائل سم کی خریداری سے لے کر ہر وہ کام جسکے لئے بائیو میٹرک لازمی ہو تی ہے، میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو آپ کے لئے اچھی خبر یہ ہے کہ نادرا نے شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کر تے ہوئے اس مسئلے کا حل متعارف کرادیا ہے۔
اب فنگر پرنٹس کے ساتھ ساتھ چہرے کی تصویر اور آنکھ کے آئرس کو بھی قانونی طور پر بائیومیٹرک شناخت تسلیم کر لیا گیا ہے۔ چہرے کی شناخت کی یہ سہولت نادرا رجسٹریشن مراکز اور پاک آئی ڈی اپلیکیشن دونوں پر دستیاب ہونگی۔
مزید پڑھیں:نادرا نے پاک آئی ڈی موبائل ایپ کا نیا ورژن متعارف کروادیا
نئے سسٹم سے بزرگ شہریوں اور طبی مسائل یا غیر معیاری فنگر پرنٹ ریڈیڑ کے باعث فنگر پرنٹس کی تصدیق میں مشکلات کا سامنا کرنے والے افراد کو بڑی سہولت ملے گی۔
حکام کے مطابق 20 جنوری سے ملک بھر میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ کا اجرا شروع ہو جائے گا۔ شہری کسی بھی نادرا رجسٹریشن مرکز سے صرف 20 روپے چارجز کے عوض یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
سرٹیفکیٹ پر شہری کی تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ موجود ہوگا، یہ سرٹیفکیٹ سات دن کے لیے قابلِ استعمال ہوگا جسے شہری متعلقہ ادارے میں جمع کروا سکیں گے۔ نادرا حکام کے مطابق مستقبل میں ہر متعلقہ ادارے میں بھی یہ سہولت دستیاب ہو گی جہاں اسکی ضرورت ہو گی۔