استعمال شدہ کپڑوں کی مقبولیت یا قوت خرید میں کمی ، پاکستانی کی تقریبا نصف آبادی نے گذشتہ ایک برس کے دوران لنڈے سے کچھ نہ کچھ خریداری ضرور کی ہے ۔
اس بات کا انکشاف حالیہ دنوں ہونے والے گیلپ و گیلانی سروے پاکستان کے دوران ہوا ۔جسمیں 48 فیصد شرکاء نے مقامی لنڈا بازاروں سے سویٹرز اور کوٹ جیسے استعمال شدہ کپڑے خریدےکا اقرار کیا ہے ۔
رواں سال مارچ میں کمپیوٹرائزڈ فون کال کے زریعےکئے جانے والے ایک سروے میں پاکستانی کےچاروں صوبوں کے شہری اور دیہی علاقوں سے 779 افراد سے سوالات کئے گئے ۔سروے کے دوران جب شرکاء سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے پچھلے ایک سال میں لنڈا بازاروں سے کپڑے خریدے، تو 48 فیصد نے “ہاں” میں جواب دیا، 51 فیصد نے “نہیں” کہا، جبکہ 1 فیصد نے جواب دینے سے گریز کیا ۔
سماجی ماہرین کے مطابق لنڈا بازار طویل عرصے سے ایک عملی اور سستا حل رہے ہیں، خاص طور پر سردیوں کے موسم میں جہاں بیرون ملک سے آئے ہوئے استعمال شدہ ملبوسات کی ایک وسیع رینج کم قیمت پر دستیاب ہوتی ہے جو محدود بجٹ والوں کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں ۔