پاکستان میں کار ساز کمپنیاں 200 عالمی حفاظتی معیارات میں سے 182 اسٹینڈرڈز پر عمل درآمد ہی نہیں کرتیں جبکہ ان کی تیار کر دہ گاڑیوں کی قمیتیں عالمی مارکیٹ سے بھی ذیادہ ہیں ۔
اس بات کا انکشاف گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے اجلاس میں ہوا ہے ۔چیئرمین قائمہ کمیٹی سید حفیظ الدین کےمطابق پاکستان میں بڑی تعداد میں ٹریفک حادثات ہو رہے ہیں ۔ گاڑیوں میں حفاظتی معیار نہ ہونے اور کوالیٹی میں گراوٹ کی وجہ سے ہم گاڑیاں برآمد کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں جبکہ ہمارے پڑوس میں بھارت اور چین گاڑیوں کے بڑے برآمد کنندگان بن چکے ہیں۔ تینوں غیر ملکی کمپنیاں قواعد پر عمل نہیں کر رہیں۔ کمیٹی اراکین نے ان کمپنیوں کو مذید مہلت دینے کے بجائے ان کے خلاف براہ راست کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
دنیا بھر میں کئی ادارے اور حکومتیں یہ طے کرتی ہیں کہ گاڑی کیسے بنے گی تاکہ وہ حادثے میں جان بچا سکے۔ بچوں، خواتین اور بوڑھوں کے لیے محفوظ ہو، آگ نہ لگے، اچانک بریک لگنے پر قابو میں رہے اور آلودگی کم پھیلائے۔
یورپ میں”UNECE” کے نام سے ایک ادارہ ہے، جس نے 100 سے زیادہ حفاظتی اصول بنائے ہیں ۔
امریکہ میں”FMVSS” قوانین کے تحت ہر گاڑی کا کرش ٹیسٹ ہوتا ہے۔
جبکہ دنیاکے دیگرممالک میں “ISO” اور “SAE” جیسے ادارے یہ دیکھتے ہیں کہ گاڑی کا الیکٹرانک نظام اور بریکنگ سسٹم محفوظ ہو۔
“Euro NCAP” جیسے ادارے گاڑی کو دیوار سے ٹکرا کر چیک کرتے ہیں کہ کتنی محفوظ ہے۔ پھر اس کو 1 سے 5 اسٹار تک ریٹنگ دیتے ہیں۔
عالمی حفاظتی معیار میں صرف کار یا کوئی گاڑی ہی نہیں بلکہ کار ساز فیکٹری میں کام کرنے والوں کے لیے بھی کچھ حفاظتی اصول بنا رکھے ہیں مثلا کام کے دوران ورکرز کو کسی مشین یا بھاری شے سے نقصان نہ پہنچے، ان پر کوئی مشین نہ گر جائے، گیس یا آگ سے نقصان نہ ہو، شور یا دھول سے صحت خراب نہ ہو۔
جدید دنیا میں گاڑیاں الیکٹرک اور خودکار ہو رہی ہیں جس کا انحصار انٹر نیٹ اور سافٹ ویئر پر ہےاس لئے اب بیٹری کی حفاظت، سائبر سیکیورٹی، اور سافٹ ویئر اپڈیٹ جیسے نئے اصول بھی بنائے جا رہے ہیں۔