قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ میں وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے انکشاف ہےکہ کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر ملک میں پابندی عائد ہے اور ابھکرپٹو کرنسیی تک اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ سیکریٹری خزانہ کے اس بیان پر قائمہ کمیٹی خزانہ نے کرپٹو کونسل کے چیئرمین اور ارکان کو طلب کرکے بریفنگ لینے کا فیصلہ کرلیا۔
سیکرٹری خزانہ امداداللہ بوسال نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ کرپٹو کرنسی کے کاروبار پر پاکستان میں پابندی ہےاور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، کرپٹو کونسل وزیراعظم کے ایگزیکٹوآرڈر پر قائم کی گئی ہے، وزیر خزانہ کونسل کے سربراہ ہیں جبکہ وزیراعظم کے معاون خصوصی بلال بن ثاقب کونسل کے سی ای او ہیں، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی کی اس میں نمائندگی ہے، مجھے اس قابل نہیں سمجھاگیا کہ کرپٹو کونسل کا ممبر بنایا جاتا۔
مزید پڑھیں:پاکستان نے پہلے سرکاری حمایت یافتہ بٹ کوائن ریزرو کا اعلان کر دیا
رکن کمیٹی مرزا اختیار بیگ نے سیکریٹری خزانہ سے استفسار کیا کہ آپ کہہ رہے کرپٹو پر پابندی ہے لیکن لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں؟ آپ نے کرپٹو کی پروجیکشن ایسی کی ہے کہ لوگ اس طرف آرہے ہیں، اگر کل کرپٹو قبول نہیں کی جاتی تو لوگوں کا پیسہ تو ڈوب جائے گا، ایسا کوئی بیان جاری کریں کہ کرپٹو ابھی لیگل فریم ورک سے گزر رہی ہے۔
رکن کمیٹی محمد مبین نے کہا کہ ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں کرپٹو کرنسی قانونی نہیں اور پھر بجلی بھی مختص کردی، کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب بہت اہم لوگوں سے ملاقات کررہے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر سہیل جواد نے کمیٹی کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک نے کرپٹو اور بٹ کوائن پر کرپٹو کونسل کو اپنی سفارشات دی ہیں تاہم اس کےلیے ریگولیٹری فریم ورک ہونا چاہیے، انہوں نے کہا کہ ابھی تک دنیا میں صرف ایک ملک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت دی گئی ہے تاہم وہ بھی اپنے فیصلے کو واپس لے رہے ہیں، کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کرپٹو کونسل ہی تفصیلات بتا سکتی ہے۔