Karachi
Current weather
Humidity-
Wind direction-

2025 میں دنیا میں سب سے زیادہ مقبول 10 پاس ورڈز کونسے رہے؟

NordPass released a list of the most popular passwords of 2025
اپ ڈیٹ رہیں – فوری اطلاعات کے لیے ٹی او کے کو واٹس ایپ پر فالو کریں۔

روں سال 2025 میں دنیا میں کونسے پاس ورڈز جنریشنز کے پسندیدہ ترین رہے ہیں، اس حوالے سے پاس ورڈ منیجر کمپنی نورڈ پاس کی جانب سے 2025 کے مقبول ترین  پاس ورڈز کی فہرست جاری کی گئی ہے۔

اس کمپنی کی جانب سے 7 برسوں سے ہر سال ایسے پاس ورڈز کی فہرست جاری کی جاتی ہے، اس فہرست کی تیاری کے لیے کمپنی نے ستمبر 2024 سے ستمبر 2025 کے دوران جاری کیے گئے لیک ڈیٹا اور ڈارک ویب کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا، اس بار کمپنی نے مختلف نسلوں کے افراد کی پاس ورڈ عادات کو بھی مد نظر رکھا ہے۔

مجموعی طور پر دنیا بھر میں سب سے زیادہ مقبول پاس ورڈ حیران کن نہیں کیونکہ یہ برسوں سے اس طرح کی فہرستوں میں نمبرون پوزیشن پر ہوتا ہے اور یہ پاس ورڈ 123456 ہے، گزشتہ 7 سال کے دوران چھٹی بار ہے جب یہ پاس ورڈ اس کمپنی کی فہرست میں ٹاپ پر رہا ہے۔

مزید پڑھیں:گوگل نے ویب براؤزر کروم کو اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے مکمل تبدیل کر دیا

تحقیق کے مطابق اسی طرح admin دوسرے جبکہ 12345678 تیسرے نمبر پر رہا، 123456789 کے حصے میں چوتھا، 1235 کے حصے میں 5 واں جبکہ password  کے حصے میں چھٹا نمبر آیا۔ Aa123456 نے 7 واں نمبر اپنے نام کیا جبکہ 1234567890 کے حصے میں 8 واں نمبر آیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 9 ویں نمبر پرPass@123 موجود ہے جبکہ admin123 اس فہرست میں 10 واں مقبول ترین پاس ورڈ قرار دیا گیا۔

مختلف نسل کے پسندیدہ ترین پاس ورڈز کونسے رہے؟

اگر مختلف نسلوں کی بات کی جائے تو جنریشن زی (1996 سے 2010 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) کے پسندیدہ ترین پاس ورڈز 12345، 123456 اور 12345678 قرار پائے۔Millennials یا جنریشن وائے (1981 سے 1996 کے دوران پیدا ہونے والے) میں شامل افراد کے پسندیدہ ترین پاس ورڈز میں 123456 سرفہرست رہا جبکہ 1234qwer  دوسرے اور 123456789 تیسرے نمبر پر رہا۔

1965 سے 1980 کے دوران پیدا ہونے والے افراد یا جنریشن ایکس میں شامل افراد کا پسندیدہ ترین پاس ورڈ بھی 123456 ہے جبکہ 123456789 اور 12345 بالترتیب دوسرے اور تیسرے نمبر پر رہے۔ پاس ورڈ کی عادات کے باوجود تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جین زی کے پاس کیز، بائیو میٹرکس اور ٹو فیکٹر تصدیق جیسے زیادہ جدید حفاظتی اقدامات استعمال کرنے کا زیادہ امکان ہے۔

خیال رہے کہ ہر آن لائن اکاؤنٹ کے لیے الگ پاس ورڈ ہونا چاہیے اور کوشش ہونی چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مشکل ہو۔ ویسے تو ٹیکنالوجی کمپنیاں پاس ورڈ کے متبادل پر کافی کام کررہی ہیں مگر ایسی ٹیکنالوجیز کی دستیابی کے لیے ابھی کچھ عرصہ درکار ہے۔

شیئر کریں

گوگل نیوز پر ٹائمز آف کراچی کو فالو کریں اور اپنی پسندیدہ مواد کو زیادہ تیزی سے دیکھیں۔
Leave a Reply
ریلیٹڈ پوسٹس
Close Button
Advertisement